خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد ۲ 266 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۳ء ہلاک نہ کر۔قرآن کریم نے تو مختصر اذکر کیا ہے کہ بحث کی لیکن بائیل نے اس واقعہ کو کسی قدر تفصیل سے بیان کیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ خبر ملی تو انہوں نے ترکیب سوچی کہ میں اپنے رب کو کس طرح مناؤں، کس طرح اس قوم کو تباہی سے بچاؤں۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ اے خدا! میں مانتا ہوں کہ قوم کی اکثریت گنہ گار ہوگئی ہے اور ہلاکت کے لائق ہے لیکن اس میں تیرے سو بندے تو ضرور نیک ہوں گے۔تیری رحمت بڑی وسیع ہے، تو بہت ہی کرم کرنے والا ہے، کیا ان سو بندوں کے صدقے تو ساری قوم کو بخش نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ ہاں بخش سکتا ہوں، اگر سو آدمی نیک ہوں تو میں ضرور ان کی خاطر بخش دوں گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام گھبرا گئے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سو آدمی بھی نیک نہیں ہیں۔پھر انہوں نے کہا اے خدا! اگر ان میں نوے آدمی نیک ہوں تو کیا پھر بھی قوم کو ہلاک کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں نوے بھی ہوں تب بھی قوم کو بخش دوں گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ یہ تو غلطی ہوگئی۔میں نے قوم کے بارہ میں بہت ہی زیادہ حسن ظن سے کام لیا۔اس پر انہوں نے اسی کی خاطر معاف کرنے کی گزارش کی اور خدا نے اسی کی خاطر بخشا بھی قبول فرمالیا۔پھر ستر پر آئے ، ساٹھ تک گرے، پچاس پر اترے اور ہر دفعہ اللہ تعالیٰ یہ کہتا رہا کہ ہاں اگر پچاس بندے بھی نیک ہوں تو میں ضرور مان جاؤں گا، ان کی خاطر میں ساری قوم کو معاف کر دوں گا۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام دس پر آگئے اور جب اس سے نیچے جانے لگے تو پھر ان کا دل دہل گیا۔انہوں نے کہا کہ اب اس بحث کو لمبا کرنا ٹھیک نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ گنتی کے چند انسان ہیں جو نیک ہیں ان کے سوا ساری قوم گندی ہو چکی ہے۔یہ ہے وہ بحث جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے خدا سے کر رہے تھے۔(العنکبوت :۳۳٬۳۲) ( پیدائش باب ۸ آیات ۲۰-۳۳) پھر حضرت لوط علیہ السلام کی مثال بھی بڑی عجیب وغریب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک طرف تو ہم لوط کو یہ خبر دے رہے تھے کہ یہ قوم ہلاک ہونے والی ہے۔اب فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ تم اس شہر کو چھوڑ کر چلے جاؤ اور حضرت لوط علیہ السلام نے جب یہ خبر سنی تو ان کا یہ حال تھا کہ فرشتے جو خبر لے کر آئے تھے ان کی وجہ سے بہت تنگی محسوس کی اور اس بات کا برا منایا اور فرشتوں کے ساتھ جھگڑنے لگے کہ نہیں نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے ، کچھ مہلت ملنی چاہئے۔اور ادھر قوم کا یہ حال تھا کہ وہ فساد کرنے اور ان کو ہلاک کرنے کے لئے دوڑی چلی آرہی تھی۔یہ بات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ