خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 267

خطبات طاہر جلد ۲ 267 خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۸۳ء ایسا نہیں تھا کہ لوظ کو غلطی لگی تھی اس کو پتہ نہیں تھا کہ قوم مجھ پر حملہ کر رہی ہے اس لئے ان کے لئے دعا کر رہا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لوط کی قوم تو ایسی قوم تھی جو پہلے سے لوط کے ساتھ برا سلوک کرتی چلی آرہی تھی اب کوئی نئی بات وقوع میں نہیں آئی تھی۔اس علم کے باوجود کہ قوم نے اب بھی مجھ سے برا سلوک کرنا ہے حضرت لوط علیہ السلام قوم کی بخشش کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے تھے۔چنانچہ فرشتوں کے ساتھ بھی وہ باتیں ختم نہیں ہوئی تھیں کہ قوم حضرت لوط علیہ السلام کے دروازے کھٹکھٹانے لگی اور آپ کے مکان کے اردگرد دنگا فساد برپا کر دیا اور کہنے لگی کہ ہم دروازے تو ڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے۔یہ جو باہر سے آنے والے ہیں ان کو ہمارے سپر د کرو ہم ان سے جو بدسلوکی کرنا چاہتے ہیں کریں گے۔اس حالت میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کی زبان سے آخر وقت تک دعا ہی نکلی ہے اور اپنی قوم کے لئے اپنے رب سے بخشش کی استدعا ہی کرتے رہے ہیں۔یہ ہیں وہ لوگ جو تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ اور تَوَاصَوْا بِالصَّبر کا حق ادا کرتے ہیں، حق پر قائم رہتے ہوئے حق بات کی نصیحت کرتے چلے جانا اور صبر کی بھی ایسی انتہا کر دکھانا کہ قوم ہلاکت کے در پے ہو اور مثانے کے لئے سارے ذرائع اختیار کرے اور ہلاکت کی تدبیروں پر عمل درآمد کروارہی ہو اس وقت بھی ان کے لئے دعائیں کی جائیں۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات سے مختصراً میں نے بیان کیا ہے۔جماعت احمدیہ کو میں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو یہ واقعات محفوظ کئے یہ محض قصے کہانی کے طور پر تو محفوظ نہیں کئے۔آنحضرت ﷺ کو اس طرح خبریں دی گئیں۔آپ کو بتایا گیا کہ تو چونکہ ساری دنیا کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اس لئے سارے عالم کے رسولوں پر جو واقعات گزر گئے ہیں وہ تیری قوم سے گزرنے والے ہیں یعنی تیرے ساتھ تمام انبیاء کی کہانی دہرائی جائے گی اور اس میں اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی رسول آ گیا ہے۔اگر صرف نوح کی کہانی دہرائی جاتی یا صرف ابراہیم کی کہانی دہرائی جاتی یا صرف لوڈ کی کہانی دہرائی جاتی تو کس طرح حضرت محمد مصطفی ملے کہہ سکتے تھے کہ میں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔تمام جہانوں کے لئے رحمت بننے کے لئے ضروری ہے کہ تمام جہان کے دکھ برداشت کرنے کے لئے انسان کے اندر حوصلہ ہو۔