خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد ۲ 265 خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۸۳ء مضمون اکٹھا ہو جاتا ہے وہاں وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میں بھی صبر اور دعا کا مضمون اکٹھا ہوجاتا ہے۔انبیاء اتنے صبر کرنے والے ہوتے ہیں کہ انتہائی دکھ اور تکلیفیں اٹھانے کے باوجود بھی قوم کے لئے بددعا نہیں کرتے بلکہ ان کے لئے دعا ہی کرتے چلے جاتے ہیں۔پس اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے جو حضرت نوح علیہ السلام کے واقعات سے بعض لوگوں کے دل میں پیدا ہوتی ہے میں دو مثالیں بیان کرتا ہوں۔ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال ہے اور دوسری حضرت لوط علیہ السلام کی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب قوم نے ہر طرح سے ناکام کرنے کی کوشش کی ، ان کو آگ میں بھی ڈالا گیا، ہر قسم کی مخالفتیں کی گئیں اور کہا گیا کہ ہم تجھے مٹا کر رکھ دیں گے۔ان سب باتوں کے باوجود جب اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دے کر فرشتے بھیجے اور بتایا کہ نہ صرف یہ کہ لوگ تجھے مٹا نہیں سکیں گے بلکہ ہم تیری نسل کو دنیا میں اس طرح پھیلا دیں گے کہ وہ ریت کے ذروں اور آسمان کے ستاروں کی طرح شمار نہیں کی جاسکے گی۔یہ خوشخبری دینے کے بعد فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا کہ ہم لوط کی قوم کی طرف جارہے ہیں تا کہ ان کو ان کی قوم کی ہلاکت کی خبر دیں۔یہ تھی وہ خبر جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک طرف خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ بتا رہا تھا کہ بنی نوع انسان کے مٹانے کا فیصلہ نہیں ہوا بلکہ تیری نسل اور تیرے تخم اور تیری ذریت سے اتنی عظیم الشان نسل دنیا میں پھیلائی جائے گی کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہوگا۔پھر اس تسلی کے بعد چھوٹی سی یہ خبر دی کہ لوظ کی قوم ہلاک ہونے والی ہے۔یہ تمہید کیوں باندھی؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے ہی نرم دل اور حد سے زیادہ رحم کرنے والے تھے۔بنی نوع انسان کی ہمدردی میں ان کا دل حد سے زیادہ پگھل جانے والا تھا لیکن باوجود اس کے کہ عظیم الشان خوشخبری کے پس منظر میں بڑے پیار سے خبر دی گئی تھی۔جس طرح کوئی News Break کی جاتی ہے یعنی تسلی دے کر اور بہت سے دلا سے دینے کے بعد بتایا جاتا ہے کہ تا کہ صدمہ نہ پہنچے۔اسی طرح یہاں بھی اس سے زیادہ عمدہ دلاسہ اور کیا ہوسکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیامت تک کے لئے عظیم الشان نسلوں کی خوشخبری دی جارہی تھی۔پھر بھی جب یہ خبر سنی کہ لوط کی قوم کے لوگ ہلاک کئے جائیں گے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بے قرار ہو گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جھگڑا کرنے لگے ، خدا سے بحث شروع کر دی کہ اے خدا! ان کو