خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد ۲ 255 خطبه جمعه ۲۹ ر ا پریل ۱۹۸۳ء تو کل اللہ پر ہے۔میں نے کسی کے ساتھ منصوبہ بنا کر یہ مقام حاصل نہیں کیا۔میں نے کسی طاقت کے ساتھ ساز باز کر کے یہ اعلان نہیں کیا کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔تمہیں شاید یہ وہم ہے کہ میں اپنے منصب کی خاطر کسی طاقت کا سہارا لئے ہوئے ہوں اس لئے میں خوب کھول کر تمہارے کانوں سے یہ بات نکال دینا چاہتا ہوں کہ مجھے خدا نے یہ منصب عطا فرمایا ہے اور وہی اس منصب کی حفاظت کرنا جانتا ہے اسی پر میرا تو کل ہے۔ہاں میں تمہیں ایک اور ترکیب بتا تا ہوں اور وہ یہ کہ تم اپنی ساری طاقتیں مجتمع کرلو، خدا کے سوا جن پر تمہارا تو کل ہے ان سب کو اکٹھا کر لو، پھر مجھے ہلاک کرنے کے لئے شک کی کوئی بات نہ رہنے دو، جو تدبیریں بن پڑتی ہیں بنالو، جو کوشش کر سکتے ہو کر دیکھو، الغرض ساری قومی طاقتیں مجتمع کر لو اور خدا کے سوا جن کو طاقتور سمجھتے ہو ان سب کو اپنی طرف کر لو اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ فلاں کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے تو کھلا کھلا اعلان ہے کہ وہ طاقتیں تم سنبھال لو مجھے تو ان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان ساری دنیاوی طاقتوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر لو اور پھر پورا زور لگا کر مجھے ہلاک کرنے کی کوشش کرو لیکن تم یقینا نا کام ہو گے اور میں ہلاک نہیں ہوں گا۔فطرت کی کیسی عظیم الشان دلیل ہے۔دل سے اٹھتی ہے اور دل پر اثر کرتی ہے۔اگر کوئی نہ مانے تو اس کوکھلم کھلا چیلنج دیا گیا ہے کہ مخالفت کر کے دیکھ لو اور مخالفت کرنا تو تمہارے بس میں ہے، مجھے مٹانے کے تمام ذرائع اختیار کرنا تمہارے بس میں ہے۔تم کہتے ہو کہ میرے ساتھ چند کمینے اور حقیر لوگوں کے سوا اور کوئی نہیں۔اس صورت میں مجھے مٹانا کونسا مشکل کام ہے۔پس ساری طاقتیں استعمال کر لو اور مجھے مٹانے کے لئے پورا زور لگاؤ لیکن میں تمہیں بتادیتا ہوں کہ تم نا کام ہو گے اور میں کامیاب ہوں گا کیونکہ مجھے خدا نے بھیجا ہے۔یہ بھی ایک ازلی ابدی دلیل ہے۔وہ پہلا نبی جس کے پیش کردہ دلائل محفوظ کئے گئے وہ بھی فطری باتیں کہہ رہا تھا اور آخری نبی جو صاحب شریعت اور قیامت تک کا نبی ہے وہ بھی یہی باتیں کہہ رہا تھا اور آپ کی غلامی میں جو امام مہدی ظاہر ہوا اس نے بھی یہی باتیں کیں۔ایک ذرہ بھی ان باتوں میں فرق نہیں۔پس یہ ہے نصیحت بالحق۔اس کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں لیکن چونکہ اب وقت زیادہ ہورہا ہے اس لئے انشاء اللہ اگلے خطبے میں اس مضمون کو جاری رکھوں گا۔ابھی تو صرف حضرت