خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 254

خطبات طاہر جلد ۲ 254 خطبه جمعه ۲۹ ر ایریل ۱۹۸۳ء چنانچہ قرآن کریم آنحضرت عیﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَانُو اِذْقَالَ لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِي وَتَذْكِيْرِى بِاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَ كُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَى وَلَا تُنْظِرُونِ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَ أُمِرْتُ أَنْ أكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (يونس:۷۲-۷۳) کہ اے محمد ! تو اپنی قوم کے سامنے نوح کی خبر بیان فرما اور انہیں بتا کہ اس وقت کو یاد کریں جب نوح نے اپنی قوم سے کہا کہ تمہیں میرا منصب برا لگ رہا ہے اور تمہارے اوپر وہ مقام بوجھل ہے جو خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے۔انسانی فطرت کا ایک اور تجزیہ کر دیا کہ جب سے دنیا بنی ہے اور خدا نے انبیاء کا سلسلہ جاری فرمایا ہے ہمیشہ ہی اس چیز سے حسد پیدا ہوتا رہا ہے کہ ایک شخص خدا کا نمائندہ بن گیا۔دنیا کے نمائندگان اپنے علم کے برتے پر، اپنے خاندانوں کے برتے پر، اپنی قوموں کے برتے پر اور دیگر فضیلتوں کے نتیجے میں اپنے اپنے حلقے میں لوگوں سے اپنی بادشاہی منوا چکے ہوتے ہیں اچانک ایک آواز اٹھتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔پس فرمایا اے محمد ! اپنی قوم کو بتا کہ تمہارا وہی حال ہے جو ہزاروں سال پہلے نوح کی قوم کا تھا۔ایک ذرہ بھی فرق نہیں۔ان کے سامنے بھی جب یہ اعلان ہوا کہ خدا نے ایک شخص کو منصب نبوت پر فائز کیا ہے تو قوم کو آگ لگ گئی ، برداشت نہیں ہو سکا ، جل بھن گئے یہ دیکھ کر کہ ہم میں سے ہی ایک مسکین کو جوغریبوں اور حقیر لوگوں کا نمائندہ ہے خدا نے ہم سب پر حاکم اور اولی الامر بنا دیا اور کہا کہ یہ حکم و عدل ہوگا۔اس کے فیصلے ماننے پڑیں گے۔الغرض خدا نے آنحضور علیہ سے فرمایا کہ اپنی قوم کو بتا کہ جس طرح نوح نے اپنی قوم سے کہا تھا میں بھی تمہیں وہی بات کہتا ہوں کہ اگر تم پر میرا مقام اور منصب بوجھل ہو گیا ہے، گراں گزرتا ہے اور برداشت نہیں ہورہا اور تمہیں یہ بات تکلیف دیتی ہے کہ میں اللہ کی طرف سے نصیحت کرنے آیا ہوں تو میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ ان دونوں باتوں میں میرا