خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 253
خطبات طاہر جلد ۲ 253 خطبہ جمعہ ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ء حقیقت یہ ہے کہ خدا سے کلام کے دعویدار کو دنیا میں کوئی انسان قطعیت کے ساتھ جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں علم نہیں اور ہمارا دل مطمئن نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے تم سچے ہو، ہو سکتا ہے تم جھوٹے ہو، کیونکہ خدا نے ہمیں سنا کر پیغام نہیں بھیجا تھا اس لئے ہم تو صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں ہے۔ جب تک خدا ہمارے دل کو اطمینان نہ بخشے ہم لاعلمی کی حالت میں زندگی بسر کریں گے۔ یہ ایک جائز طریق اور ایک معقول نقطہ نظر ہے اور اگر کوئی اس عقیدے پر جان دے دے اور خدا اس کی ہدایت کا سامان نہ کرے تو قیامت کے دن اسے ان مجرموں کی صف میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا جو عمداً کسی دعویدار کو مفتری کہتے ہیں۔ پس خدا سے ہمکلامی کے دعویدار کی ایک یہ دلیل بھی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ دیکھو ! میرا دعوی تو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا ہے۔ اگر تم مجھے مفتری کہو گے تو تم ضرور جھوٹے ہو جاؤ گے کیونکہ جس کو جھوٹا کہنے کا حق نہ ہو اور وہ کسی کو جھوٹا کہہ دے تو اگر وہ جھوٹا بھی ہو تو اسے جھوٹا کہنے والا بہر حال جھوٹا ہے۔ فرض کیجئے ایک واقعہ نہیں ہوا۔ اب جو شخص کہتا ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہے وہ جھوٹا ہے۔ لیکن ایک اور شخص جس کو پتہ ہی نہیں کہ واقعہ ہوا یا نہیں وہ یہ حلف اٹھا لے کہ واقعہ نہیں ہوا تو وہ بھی جھوٹا ہو گا باوجود اس کے کہ بات سچی کر رہا ہے لیکن ہے جھوٹا۔ چنانچہ قرآن کریم اسی قسم کی مثال دیتے ہوئے کہتا ہے کہ منافقین اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ اے محمد ! تو سچا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ گواہی تو ٹھیک دے رہے ہیں لیکن ہیں جھوٹے کیونکہ جو ان کا دل مانتا ہے اس کے مطابق یہ گواہی نہیں دے رہے۔ ان کو اس بات کی شہادت دینے کا حق ہی نہیں ہے کہ تو سچا ہے۔ پس جب بھی خدا کی طرف سے کوئی دعویدار کھڑا ہو تو وہ قوم کو یہ بتاتا ہے کہ تمہیں مفتری کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر تم ایسا کہو گے تو خواہ میں سچا ہوں یا جھوٹا تم ضرور جھوٹے بن جاؤ گے ۔ اس لئے خدا پر معاملہ چھوڑ و اور استغفار سے کام لو کیونکہ جس کو جان دینی ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ دعویدار سچا ہے یا جھوٹا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی یہ ساری نصائح اپنے اندر بہت گہرے سبق رکھتی ہیں ۔ ان میں درد بھی پایا جاتا ہے اور سنجید گی بھی۔ اور یہ چیزیں سچائی کے بغیر پیدا نہیں ہوتیں۔ کوئی جھوٹا نصیحت کرنے والا سنجیدگی اور درد کے ساتھ نصیحت کر ہی نہیں سکتا۔ اس لئے انبیاء کی باتیں اور نصائح ان کی صداقت کے دلائل بن جاتی ہیں۔