خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 252

خطبات طاہر جلد ۲ 252 خطبه جمعه ۲۹ / اپریل ۱۹۸۳ء نہایت ہی احمقانہ بات ہے کہ ایک فریق کو تو جبر کا حق ہے مگر دوسرے کو نہیں۔یہ ایک غیر فطری چیز ہے اس لئے چل ہی نہیں سکتی۔چنانچہ علما کی بحثوں میں ایک صاحب نے ایک بڑا دلچسپ فقرہ لکھا۔اس نے کہا کہ فلاں مولوی جو یہ کہتے ہیں کہ جبر یکطرفہ چلے گا۔یعنی ایک طرف سے تو جبر جائز ہے مگر دوسری طرف سے نہیں ، تو یہ صداقت تو نہ ہوئی یہ تو چوہے دان ہو گیا کہ اندر جانے کا رستہ تو ہے مگر باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہیں۔لیکن انبیاء کسی چوہے دان کا تصور پیش نہیں کرتے وہ ایک کھلی فضا کا تصور پیش کرتے ہیں اور ہمیشہ سچائی نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ آتے ہو تو شوق سے آؤ ، جاتے ہو تو شوق سے جاؤ لیکن تمہیں یہ بتادیتے ہیں کہ یہ آزادی چند دن کی ہے۔ایک وقت ایسا آنا ہے کہ تم سب نے اس دروازے سے نکل جانا ہے جو دوطرفہ نہیں یعنی موت کا دروازہ۔گویا انبیاء یکطرفہ رستے کا تصور تو پیش کرتے ہیں لیکن اور معنوں میں۔وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں تو دو طرفہ رستے ہیں۔مذہب کے رستے سے تم اندر آ بھی سکتے ہو، باہر جا بھی سکتے ہو اور ایک دفعہ نہیں ، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، جتنی بار چا ہو آؤ اور جاؤ۔لیکن اگر باہر جا کر مرے تو ہلاکت کی موت ہو گی۔اب یہ تمہارا اور خدا کا معاملہ ہے۔تم بے شک یہ کھیل کھیلو۔سو دفعہ آؤ سود فعہ جاؤ۔لیکن اگر مذہب سے باہر پاؤں چلا گیا اور وہاں موت آگئی تو پھر تم ہلاک ہو گئے۔فرمایا ایک رستہ ایسا ہے جو یکطرفہ ہے اور وہ موت کا رستہ ہے یہاں سے تم ایک دفعہ چلے گئے تو پھر واپسی کبھی نہیں ہوگی۔اسی یکطرفہ رستے سے ہم تمہیں ڈراتے ہیں۔اس کا تصور کر کے خوف کرو اور اپنے اعمال کا جائزہ لو۔حضرت نوح اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ تم کتنی بے باکی کے ساتھ میرا انکار کر رہے ہو۔حالانکہ تمہیں انکار کا کوئی حق نہیں۔تم کہتے ہو کہ میں نے خدا پر جھوٹ بولا ہے۔حالانکہ اگر خدا نے مجھے سے کلام کیا تھا تو اس کا خدا کو پتہ ہے یا مجھے، تمہیں کیسے پتہ چل گیا کہ کلام کیا تھا یا نہیں ؟ جس نے کلام کیا وہ جانے اور جس سے کلام ہوا اس کو پتہ ہو، تیسرے آدمی کو کس طرح پتہ چل گیا کہ خدا نے کلام کیا یا نہیں ؟ یہ اس دلیل کا دوسرا پہلو ہے۔فرماتے ہیں فَعَلَ اِجْرَامی میں جانوں اور میرا رب جانے۔تمہارے نزدیک خدا کو تو پتہ ہی نہیں کہ مجھ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے اور تم جن کو کانوں کان خبر نہیں ہوسکتی کہتے ہو کہ یہ دعویدار جھوٹا ہے۔خدا نے اس سے ہرگز کلام نہیں کیا۔