خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 238

خطبات طاہر جلد ۲ 238 خطبه جمعه ۲۲ / اپریل ۱۹۸۳ء غرض میں جماعت کو بار بار نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی سر سے گزر جائے پرواہ نہ کریں اور پورے صبر کے ساتھ اپنے مسلک پر قائم رہیں۔دعا کریں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے طالب رہیں اور یا درکھیں کہ ہم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے بدلے خود نہیں اتار نے۔حضور اکرم ﷺ نے جو اسوہ ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے اس کو چھوڑ کر ہم کہاں زندگی تلاش کریں گے۔صرف وہی زندگی کا ایک راستہ ہے۔جب قوموں کو ایسے دور سے واسطہ ہو جو صبر کا دور کہلاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی ان کے صبر کے پیمانہ کو لبریز نہیں کر سکتی ، وہ یوں نہیں چھلکا کرتا بلکہ چھلکتا ہے تو دعاؤں میں آنسوؤں کے ذریعہ چھلکتا ہے لیکن ظلم کے بدلہ ظلم کی صورت میں نہیں چھلکتا۔آنحضرت ﷺ پر جو صبر کا دور تھا وہ مکی دور تھا۔ویسے تو تمام زندگی آپ صبر پر قائم رہے لیکن مکی دور میں صبر کو ایک نمایاں حیثیت حاصل تھی۔حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن پر بہت مظالم ہوتے تھے اور بہت تکلیفیں دی جاتی تھیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آنحضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا۔آنحضور اُس وقت اکیلے خانہ کعبہ کے سایہ تلے بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! اب تو دکھوں کی حد ہو گئی ، صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔وہ کہتے ہیں کہ میری بات سن کر آنحضور ﷺ کا چہرہ تمتما اٹھا اور فرمایا کہ دیکھو! تم سے پہلے ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے گوشت کو لوہے کی کنگھیوں سے اس طرح نو چا گیا کہ ہڈیوں سے گوشت الگ کر دیئے ،لیکن انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور اپنے مسلک سے انحراف نہیں کیا۔پھر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو ! تم سے پہلے ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے سر کو آروں سے اس طرح چیرا گیا کہ ان کے سر دو نیم ہو گئے لیکن نہ تو وہ اپنی زبان پر بے صبری کا کوئی کلمہ لائے اور نہ اپنے دین سے انہوں نے انحراف کیا۔آنحضور ﷺ نے یہ کہ کر فرمایا کہ لازماً میرا خدا اپنے کام کو پورا کرے گا جو اس نے میرے سپر دفرمایا ہے، لازما اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا یہاں تک کہ عرب کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اسلام پھیل جائے گا اور امن و امان قائم ہو جائے گا۔اگر کوئی شخص صبر کرے گا تو خواہ وہ نہتا اور کمزور ہے پھر بھی اس کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔( بخاری کتاب المناقب باب مالقی النبی عه واصحابه ) پس میں بھی جماعت کو یہ کہتا ہوں کہ حضرت محمد علہ جو اصدق الصادقین تھے، آپ کے منہ سے نکلے ہوئے قول اور آپ کے منہ کی نکلی ہوئی باتیں لازما اٹل ہیں وہ لازماً پوری ہوں گی۔