خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 237

خطبات طاہر جلد ۲ 237 خطبه جمعه ۲۲ / اپریل ۱۹۸۳ء کر لئے ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ہمارے ان احمد یوں میں سے ایک بھی اپنے مسلک سے پیچھے نہیں ہٹا۔بڑے صبر کے ساتھ وہ آخر وقت تک اپنے ایمان پر قائم رہے اور انہوں نے اس سے سرمو بھی انحراف کی راہ اختیار نہیں کی۔يهِ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ کی عملی تصویر ہے کہ ایسی جماعت قائم ہونے والی ہے جو نہ صرف صبر کی تلقین کرے گی بلکہ خود صبر کا دامن پکڑ کر بیٹھ رہے گی اور جتنی بڑی سے بڑی آزمائش میں بھی اس جماعت کو مبتلا کیا جائے گاوہ صبر کا دامن نہیں چھوڑے گی لیکن بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک صبر کرنے والے کے دکھ کو دیکھ کر اور اس کی تکلیف سے متاثر ہو کر کم حوصلہ والے لوگ صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کا آپریشن ہورہا ہو تو جس کا آپریشن ہورہا ہوتا ہے اس کو تو اتنی تکلیف نہیں ہو رہی ہوتی جتنی دیکھنے والے محسوس کرتے ہیں۔میں نے خود ایک نظارہ دیکھا ہے۔ایک مریض کی دانت نکلواتے وقت جو حالت تھی اس کو دیکھ کر ایک نوجوان جو پاس کھڑا تھا بے ہوش ہو کر گر پڑا لیکن جس کا دانت نکالا جا رہا تھا اس کو پر واہ بھی نہیں تھی۔میں نے اس لئے اس مضمون کو اٹھایا ہے کہ ایسے واقعات رونما ہوں گے، ہماری تقدیر میں یہ لکھے ہوئے ہیں یہ تو ہمارے ساتھ پیش آئیں گے۔بیٹوں کے سامنے باپ ذبح کئے جائیں گے، باپوں کے سامنے بیٹے ذبح ہوں گے، عورتیں بیوائیں ہوں گی، بچے یتیم ہوں گے۔جس مسلک کو ہم نے اختیار کیا ہے اور جس راستہ کو ہم نے پکڑا ہے یہ تو وہ راستہ ہے جس کی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے نشاندہی فرمائی ہے۔اس راستہ پر چلتے ہوئے مصائب و مشکلات کا سامنا ناگزیر ہے لیکن میں اپنے ان دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں جو کمزور ہیں کہ وہ اپنی بے صبری کے ذریعہ ان لوگوں کی قربانیوں کو ضائع نہ کریں جو صبر پر قائم ہیں اور صبر پر قائم رہیں گے اور ہرگز کوئی ایسا رد عمل نہ دکھائیں جس کے نتیجہ میں ہمارے صبر کرنے والوں کا صبر ضائع ہو جائے۔ہم نے کامل سکون کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر تو کل کرتے ہوئے اور اس سے دعائیں کرتے ہوئے اس راستہ پر آگے بڑھتے چلے جانا ہے اور ظلم کے جواب میں ظلم نہیں کرنا۔ہماری سرشت میں یہ بات داخل کر دی گئی ہے اور ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔ہمیں اس طور پر بنایا گیا ہے کہ ہم نے ظلم برداشت کرنے ہیں، مقابل پر ظلم نہیں کرنا۔