خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد ۲ 239 خطبه جمعه ۲۲ ر ا پریل ۱۹۸۳ء آنحضرت ﷺ نے صبر کا جو راستہ تجویز فرمایا تھا اس کو پکڑے رکھیں۔اب لازماً وہ انقلاب آئے گا۔وہ انقلاب ہم نے برپا نہیں کرنا وہ خدا کے فضل سے برپا ہوگا۔ایسے ملک جہاں صبر کے نمونے دکھائے جائیں گے وہاں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک احمدیت پھیل جائے گی اور اگر ساری دنیا کے احمدی صبر دکھائیں گے تو تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ احمدیت سے بھر دے گا یہاں تک کہ اس جماعت پر سورج غروب نہیں ہوگا۔یہ ہے وہ پیغام جو آنحضرت علی مومنین کو دینا چاہتے ہیں اور یہی وہ مضمون ہے جو سورہ عصر میں بیان ہوا ہے جو راتوں کو دن بنانے والا مضمون ہے۔مجھے بعض دفعہ تعجب ہوتا ہے بعض لوگ بڑی بے صبری سے لکھ دیتے ہیں کہ اب کیا ہوگا؟ اب تو قبریں اکھاڑ کر ہمارے مردے باہر پھینکے جانے لگے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ ایک مردہ کیا تمام احمدیوں کی لاشیں بھی اکھاڑ کر پھینک دی جائیں تب بھی وہ اپنے مسلک سے نہیں ہٹیں گے اور ہرگز نہیں ہٹیں گے۔وہ اپنے رب کریم پر توکل کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے اور کسی صورت میں صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔ہم مظلوم بن کر زندہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور مظلوم بن کر ہی زندہ رہیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم پر ظلم کا داغ کبھی نہیں لگ سکے گا۔پس احباب جماعت کو چاہئے کہ وہ خدا کی راہ میں ہر دکھ اور تکلیف برداشت کریں۔خدا پر تو کل کریں اور اس سے دعائیں کریں پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل آپ پر کس طرح نازل ہوتے ہیں۔یہی ہماری تقدیر ہے اسی تقدیر کے ساتھ ہم نے آگے بڑھنا ہے۔اسی طرح ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔صبر اور نصیحت یہی دو ہتھیار ہیں جو ہمیں عطا کئے گئے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ صبر اور نصیحت کے طریق پر قائم رکھے، ہمارا محد ومددگار ہو، ہمارے حق میں وہ ساری خوشخبریاں پوری فرمائے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے صبر کرنے والوں کو دی ہیں اور وہ تمام خوشخبریاں پوری فرمائے جو غلبہ اسلام کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے وابستہ تھیں۔حقیقت ہے کہ آج ہم وہ روحیں ہیں جن کے ذریعہ دنیا میں انقلاب بر پا ہوگا ، ہم وہ انقلابی ہیں جن کے ذریعہ ایک نہ ایک دن ضرور دنیا کی تقدیر بدل جائے گی۔ہم نے دکھوں کو راحتوں میں بدلنا ہے، ہم نے راتوں کو دنوں میں بدلنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (روز نامه الفضل ربوه ۴ را گست ۱۹۸۳ء)