خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 234
خطبات طاہر جلد ۲ 234 خطبه جمعه ۲۲ ر ا پریل ۱۹۸۳ء پس میرا استنباط بھی اس بات پر تھا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کشفاً دکھایا گیا کہ اس سورۃ کے اعداد خاص معانی رکھتے ہیں اور زمانہ کی تعین کے لئے استعمال کئے گئے ہیں اس لئے میں نے یہ استنباط کیا لیکن میرے استنباط سے اگر کوئی اختلاف کرے تو اس کو حق ہے کیونکہ یہ بہر حال میرا استنباط ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے استنباط سے کسی کو اختلاف کا حق نہیں۔تاہم میرے استنباط سے اگر کوئی اختلاف کرے بھی تب بھی جو مضمون میں نے بیان کیا ہے وہ اپنی جگہ درست ہے یعنی اس مضمون کی صحت پر اس کا کوئی بھی اثر نہیں پڑتا کہ ان اعداد میں عصر کی رات والا وہ زمانہ مراد ہے یا نہیں یا کچھ اور مراد ہے کیونکہ عصر کے ان معنوں میں جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت اولی مراد ہے وہاں بعثت ثانیہ بھی مراد ہے۔یہ معنے اپنی ذات میں لازماً درست ہیں اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ استنباط خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ عصر میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کا میرے زمانہ سے بھی تعلق ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی اس مضمون کو کھول کر بیان کیا اور ویسے عقلاً ہونا بھی یہی چاہئے کیونکہ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں بیان کیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ یہ پہلی بعثت ہے اور اس کے معا بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة :۳-۴) وہی رسول محمد مصطفی آخرین میں بھی مبعوث ہوں گے۔کن آخرین میں؟ ان آخرین میں جن کا اول گروہ یعنی صحابہ سے ابھی کوئی تعلق قائم نہیں ہوا۔ان کے درمیان فاصلے ہوں گے، خواہ زمانہ کے فاصلے مراد لئے جائیں خواہ وہ ظاہری جغرافیائی فاصلے ہوں یعنی ہر قسم کے فاصلے ان کے درمیان حائل ہوں گے اور یہ بھی فرمایا کہ وہ آخر میں آنے والے اول لوگوں سے ابھی تک نہیں مل سکے۔ان میں بھی حضرت مسیح موعود کی بعثت کے ذریعہ یہ خوشخبری پوری ہوتی۔اس خوشخبری کو قرآن کریم