خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 235
خطبات طاہر جلد ۲ 235 خطبه جمعه ۲۲ ر ا پریل ۱۹۸۳ء انحضرت ﷺ کی دوسری بعثت قرار دے رہا ہے تو اگر آخر کا مضمون حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے تعلق رکھتا ہے تو لا ز مایہ تو ہو نہیں سکتا کہ بعثت کے ایک حصہ سے تعلق رکھتا ہو اور دوسرے حصہ سے تعلق نہ رکھتا ہو، اول سے تعلق رکھتا ہو اور آخر سے تعلق نہ رکھتا ہو۔پس خلاصی مضمون یہ بنے گا کہ اگر عصر سے رات کے معنے لئے جائیں تو پہلی رات وہ مراد ہے جب حضوراکرم ﷺ نے رات کو دن میں تبدیل فرمایا۔یہ وہ زمانہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۴۲) خشکی بھی فساد میں مبتلا ہوگئی اور تری بھی فساد میں مبتلا ہوگئی ، دنیا دار بھی فسادی ہو گئے اور مذہبی لوگ بھی فسادی ہو گئے۔اس وقت آنحضور علیہ نے اس گہری رات کو دن میں تبدیل فرمایا اور وَالْعَصْرِ کا یہ بھی معنی ہوگا کہ جب آنحضور ﷺ کے وصال کے ایک عرصہ کے بعد دنیا پر دوبارہ رات چھا جائے گی ، دوبارہ وہ نقشہ ظاہر ہو گا کہ خشکی اور تری دونوں فساد میں مبتلا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ کے فیض سے اس رات کو دن میں تبدیل فرما دے گا اور یہی وہ پو پھوٹنے اور رات کو دن میں تبدیل کرنے کا مضمون ہے جس کی طرف میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں جماعت کو متوجہ کیا تھا اور وہ الَّا الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے اور اس کا طریق کار یہ بیان فرمایا ہے وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ، فرمایا راتوں کو دن بنانا آسان کام نہیں ہوا کرتا یہ صرف کہنے کی بات نہیں کر تفسیر کی اور لذتیں حاصل کر لیں بلکہ یہ قربانی کا ایک بہت لمبا دور ہے جو راتوں کو دنوں میں بدلا کرتا ہے اور وہ دور اس طرح شروع ہوگا، ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو اپنے ایمان کی تجدید کریں گے اور عمل صالح پر قائم ہوں گے۔وہ صرف اپنے تک حق کو محدود کرنے پر راضی نہیں رہیں گے بلکہ لازماً اس حق کو دوسروں تک بھی پہنچانے کی کوشش کریں گے۔وہ خود بھی صبر کرنے والے ہوں گے اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرنے والے ہوں گے۔یہ ہے صبح کا وہ مضمون جو اس رات کے بعد بیان ہوتا ہے جو عموماً دنیا پر چھا جایا کرتی ہے۔اب میں اس دوسرے حصہ میں سے بھی صبر والے حصہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ہمارا کام بہت اہم ہے، ہمارا راستہ بہت مشکل ہے، ہمیں دکھوں اور تکلیفوں میں سے گزرنا پڑے گا، کانٹوں سے پر راہوں پر قدم رکھنا پڑے گا، پھر کھا کے آگے بڑھنا ہوگا اس لئے