خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 233
خطبات طاہر جلد ۲ 233 خطبه جمعه ۲۲ / اپریل ۱۹۸۳ء مضمون کا بدل ہے اور وہ ۹۸۰ بنتے ہیں۔گویا اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا زمانہ بارہ سواسی بنتا ہے اور یہی وہ زمانہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ظاہر ہوئے۔یہ تھا میرا استنباط لیکن وقت گزرنے جانے کے بعد آہستہ آہستہ، اصل میں چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر ذہن پر غالب تھی اس لئے غلطی سے میں نے اس حصہ کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کر دیا حالانکہ ان معنوں میں اس وضاحت کے ساتھ آپ نے یہ تفسیر نہیں فرمائی۔اگر چہ من جملہ یہ ضرور بیان فرمایا ہے کہ اصل میں میرا زمانہ مراد ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی تفسیر کبیر میں اس مضمون کو کھول کر بیان فرمایا ہے کہ سورہ عصر میں حضرت رسول اکرم ﷺ کے دور اول کا بھی ذکر ہے اور دور آخر کا بھی ذکر ہے ( تفسیر کبیر جلد ۹ صفحہ ۵۴۷ - ۵۴۸)۔جہاں تک اعداد کا تعلق ہے میں جماعت کو یہ تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مضمون احتیاط کا مضمون ہے اور یہ مقام احتیاط کا مقام ہے۔جن لوگوں کو یہ جنون ہو جاتا ہے کہ ہر لفظ کے اعداد نکالیں اور اس سے کچھ مضمون باندھنے کی کوشش کریں وہ بسا اوقات غلطی کر جاتے ہیں اور بعض دفعہ ایسے ایسے لغو مضمون سامنے لے آتے ہیں جن کا قرآن کریم سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا اس لئے اصل محکم بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ عطا فرمائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب اعداد کی طرف توجہ فرمائی تو اپنی طرف سے کوئی توجیہ پیش نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ علم کی بناپر تفسیر فرمائی۔ایک کشف کی صورت میں آپ نے دیکھا، ضروری نہیں کہ ہر مضمون کشف کے طور پر ہی بیان کیا گیا ہو، بہت سے ایسے مضامین ہیں جن میں اعداد کی طرف توجہ ہوتی ہے۔مثلاً حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مقطعات کے اعداد سے متعلق بہت گفتگو فرمائی ہے اور بہت کچھ لکھا ہے اور اس سے تاریخ اسلام میں ہونے والے واقعات کا استنباط فرمایا ہے لیکن وہاں بھی ایک بات قابل غور ہے کہ جن امور سے آپ نے استنباط فرمایا ان کی بنیاد حضرت محمد مصطفیٰ کے ارشادات پر رکھی ہے۔مثلا ا ل کے اعداد کی طرف توجہ مبذول ہوئی تو اس کی بنیاد بھی وہ تفسیر تھی جو کہ حضور اکرم ہے نے خود بیان فرمائی۔اسی طرح المرا کے اعداد کی طرف اگر توجہ مبذول ہوئی تو وہ بھی حضرت اقدس رسول اکرم ﷺ کے اپنے ارشاد کے تابع تھی۔آگے پھر استنباط کے راستے کھلے ہیں لیکن بنیاد بہر حال وہی تھی جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے خود قائم فرمائی تھی۔