خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 192
خطبات طاہر جلد ۲ 192 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء نمازوں کے بغیر تم زندہ نہیں ہو اور نہ ہی زندہ رہ سکتے ہو۔تمہیں لا زم عبادتوں کو قائم کرناپڑے گا ورنہ تمہاری ساری کوششیں بریکا ربے معنی اور لغو ہوں گی۔یہی وجہ ہے کہ میں نے آغاز خلافت ہی میں آج سے تقریباً چھ ماہ پہلے تمام انجمنوں کو جن میں مرکزی انجمنیں بھی شامل تھیں اور ذیلی انجمنیں بھی شامل تھیں، اکٹھا کر کے جو بنیادی ہدایت دی وہ ی تھی کہ نماز کی حفاظت ، جس کے لئے جماعت احمدیہ قائم کی گئی ہے، ہمارا ولین فرض ہے۔ہمارے سارے نظام اس مرکزی کوشش کے لئے غلامانہ حیثیت رکھتے ہیں۔اگر یہ نظام او پر آجائیں اور یہ آقا یعنی عبادت کا مقام نیچے ہو جائے تو معاملہ بالکل الٹ ہو جائے گا پھر تو ویسی ہی بات ہو جائے گی کہ کشتی نیچے چلی جائے اور پانی اوپر جائے۔وہی چیز جو بچانے کا موجب ہوتی ہے وہ تباہی کا موجب بن جاتی ہے حالانکہ پانی اور کشتی کا تعلق وہی رہتا ہے جوکشتی کے اوپر ہے وہ بھی پانی ہے اور جو کشتی کے نیچے ہے وہ بھی پانی ہے لیکن نسبت بدلنے سے نتیجہ الٹ نکل رہا ہے یعنی اوپر کا پانی ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے اور وہی پانی جب نیچے ہو تو بچانے کا موجب بن جاتا ہے اس لئے نسبتوں کا درست ہونا ضروری ہے۔عبادت نظام جماعت کی غلام نہیں ہوگی بلکہ نظام عبادت کا غلام ہوگا۔ہم تبھی زندہ رہیں گے جب نظام جماعت عبادت کا غلام ہوگا۔پس میں نے ان تمام انجمنوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کے جتنے بھی کارکن ہیں ان کی طرف توجہ کریں۔ہر انجمن کے سر براہ کا فرض ہے اسی طرح ہر شعبے کے انچارج کا یہ فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ مرکزی نمائندگان سلسلہ اپنا حق اس رنگ میں ادا کر رہے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں۔تمام دنیا کی آنکھیں مرکز کی طرف لگی ہوئی ہیں اور مرکز میں بھی جو سلسلہ کے کارکنان ہیں وہ بڑے نمایاں طور پر لوگوں کی نظر کے سامنے نمونہ کے طور پر ہوتے ہیں۔اگر یہ لوگ بداعمالیاں کریں تو ہلاکت کا موجب بن سکتے ہیں اور اگر نیک اعمال کریں تو ان کی نیکیاں عام انسانوں کی نیکیوں کے مقابل پر ان کو کئی گنا زیادہ ثواب پہنچا سکتی ہیں۔چنانچہ میں نے انہیں جو ہدایت دی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ توجہ کریں میں آپ کو چھ مہینے دیتا ہوں۔بار بار نصیحت کے ذریعے کوشش کریں کہ تمام کارکنان نماز کے فریضے کی ادائیگی سے پیچھے نہ رہیں سوائے اس کے کہ کوئی بیماری کی وجہ سے مجبور ہو۔اسے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ٹانگوں کی بیماری ہے یا کمر کی تکلیف ہے یا اسی قسم کی اور کوئی تکلیفیں ہوسکتی ہیں کہ انسان دفتر میں تو پہنچ