خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 193

خطبات طاہر جلد ۲ 193 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء جاتا ہے اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے فرائض بھی ادا کر دیتا ہے لیکن باجماعت نماز کی توفیق نہیں پاسکتا۔اس لئے جہاں تک شرعی مجبوریوں کا تعلق ہے ہم ان میں دخل نہیں دے سکتے لیکن واضح اور یقینی شرعی مجبوریوں کے سوا سلسلے کے سارے کارکنان کو نمازوں میں پیش پیش ہونا چاہئے اور دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ بننا چاہئے۔بہر حال میں نے ذمہ دار احباب سے کہا کہ چھ مہینے کے بعد آپ اپنے انتباہ میں نسبتاً زیادہ سنجیدہ ہو جائیں اور کارکنوں کو بلا کر سمجھا ئیں اور کہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہم تمہیں نمازوں پر مجبور نہیں کر سکتے لیکن جبر نہ ہونے کے دو نقص ہیں۔اگر تم پر جبر نہیں تو جماعت احمدیہ پر کیا جبر ہے کہ وہ ضرور بے نمازیوں کو ملازم رکھے اس لئے دوطرفہ معاملہ چلے گا۔صرف تم آزاد نہیں ہو جماعتی نظام بھی آزاد ہے۔وہ آزاد ہے اس معاملے میں کہ جس قسم کے کارکن چاہے رکھے اور جس قسم کے چاہے نہ رکھے۔اس کو اختیار ہے اس لئے ہم تمہیں موقع دیتے ہیں کہ تم اپنی نماز میں درست کرو لیکن چونکہ تم آزاد ہو ہو سکتا ہے تم یہ فیصلہ نہ مانو ہم داروغہ نہیں ہیں، داروغہ تو اصل میں خدا ہی ہے، تم نے بھی اسی کے حضور پیش ہونا ہے اس لئے اگر تم یہ فیصلہ نہیں مان سکتے تو ہم تمہیں کوئی سزا نہیں دیں گے۔جزا سزا کا معاملہ اللہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن ہم بھی اس بات میں آزاد ہیں کہ تمہارے جیسے کارکنوں کو نہ رکھیں۔ہماری بعض مجبوریاں ہیں ، ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور ساری دنیا کے لئے نمونہ بننا ہے، اگر عبادت سے غافل کا رکن مرکز میں بیٹھے ہوں تو نہ وہ دعائیں کر سکیں گے، نہ ان کے اندر تقویٰ کا اعلیٰ معیار ہوگا اور نہ ہی وہ صحیح نمونہ بن سکیں گے بلکہ جماعت کے لئے ہزار مصیبتیں کھڑی کرتے رہیں گے۔کجا یہ کہ سارے مرکزی کارکنان عبادتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں اور ان کے مجموعی تقویٰ کے نتیجے میں ایک زبر دست طاقت پیدا ہو اور کجا یہ کہ چند آدمی باقی تمام کارکنوں کا حق ادا کر رہے ہوں اور اکثریت غافل ہو اور جماعت پر بوجھ بنی ہوئی ہو۔اس پہلو سے چھ مہینے کے بعد ذمہ دار افسران نے نماز سے غافل کارکنوں کو وارننگ دینی تھی لیکن میں خاموشی سے دیکھتا رہا۔میرے نزدیک اس کام میں غفلت کی گئی ہے اس لئے سال کے بعد پکڑنے کی بجائے ابھی جو تین مہینے باقی ہیں ان میں ایسے کارکن فیصلہ کر لیں کہ انہوں نے سلسلہ کی ملازمت کرنی ہے یا نہیں کرنی۔یہ بات مجھے اس وقت سے یاد ہے جب میں نے انجمنوں کو اس