خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 191

خطبات طاہر جلد ۲ 191 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء سے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں ایک یہ کہ خود بھی منع رہتے ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے بچوں کو اور اپنے ماحول کو بھی کہتے ہیں کہ اس نے یہ کیا رٹ لگارکھی ہے ہمسائی بار بار مصیبت ڈالتی رہتی ہے کہ فلاں چیز دو اور فلاں بھی دو، اس کو یہ چیز ہرگز نہیں دینی۔پس نماز اور عبادت کا خلاصہ یہ بیان فرمایا کہ اس کے بغیر نہ اللہ سے تعلق قائم ہوتا ہے نہ اس کی مخلوق سے اسی لئے بنی نوع انسان کے حقوق کا ذکر عبادت کے بعد کیا جو بیشتر حد تک مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کی ذیل میں آ جاتے ہیں بلکہ اگر اس کی وہ تعریف کی جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے تو بیشتر کا لفظ کمزور ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان کے ہر قسم کے حقوق مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کے تابع ادا ہوتے ہیں۔اس کو عبادت کے بعد رکھا ہے اور یہ ترتیب بتا رہی ہے کہ در اصل عبادت ہی کے نتیجے میں بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔پس جہاں تک اعمال کا تعلق ہے مذہب کا خلاصہ عبادت پر آ کر ختم ہو جاتا ہے۔غیب کا معاملہ تو ایمانیات سے تعلق رکھتا ہے اور ایمان نہ ہو تو عبادت کی توفیق بھی نہیں مل سکتی۔یہ درست ہے لیکن جہاں تک اعمال کا تعلق ہے ان کا خلاصہ نماز ہے۔نماز قائم ہو تو حقوق اللہ بھی ادا ہوں گے اور حقوق العباد بھی ادا ہوں گے لیکن اگر یہ نہ رہے تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔تقویٰ کا خلاصہ بھی نماز بیان فرمایا گیا ہے۔تقویٰ کی جو تعریف بیان فرمائی اس کا خلاصہ اگر نماز ہے تو متقیوں کی زندگی کا خلاصہ بھی نماز ہی بنتا ہے اس لئے عبادت مومن کی زندگی اور اس کی جان ہے اور مذہب کے فلسفے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان اپنے رب سے سچا تعلق عبادت کے ذریعے قائم کرے۔اس پہلو سے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، کمزوریاں بھی آتی چلی جاتی ہیں۔ایک دفعہ آپ زور لگاتے اور کوشش کرتے ہیں تو نماز میں حاضری کا معیار بڑھ جاتا ہے۔پھر کچھ عرصے کے بعد نماز گر نے لگتی ہے، پھر زور لگاتے ہیں تو معیار بڑھنے لگتا ہے اور بعض دنوں میں جب زیادہ توجہ دی جاتی ہے تو خدا کے فضل سے مسجدوں کے متعلق احساس ہوتا ہے کہ چھوٹی رہ گئی ہیں۔لیکن اس کے بعد پھر خالی برتن کی طرح خلخل کرتے ہوئے چند نمازی رہ جاتے ہیں اور مسجد میں قریباً خالی۔تو اس لئے ہمیں اپنے نظام میں لازماً یہ بات داخل کرنی پڑے گی کہ سارا نظام بیدار ہو کر وقتاً فوقتاً نمازوں کی طرف توجہ دلائے ، ساری جماعت کو جھنجھوڑ دے اور بیدار کر دے اور اسے بتائے کہ