خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 189
خطبات طاہر جلد ۲ 189 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء گا۔خصوصاً نماز پر تو اس کا بہت ہی گہرا اثر پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف آیات کوملحوظ رکھتے ہوئے نماز کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ یہ ہے کہ نماز ایسی چیز ہے جو اگر زور لگا کر اور توجہ کے ساتھ کھڑی نہ کی جائے تو گر پڑے گی۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ جو بار بار کہا گیا ہے کہ نماز کو کھڑا کرو، کھڑا کرو، کھڑا کرو اور بڑی کثرت کے ساتھ مختلف طریق پر بیان کیا گیا ، اس سے اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ نماز از خود کھڑی نہیں ہوا کرتی۔جب بھی تم اس کی طرف سے غافل ہو گے یہ گر پڑے گی۔جس طرح ٹینٹ یعنی خیمہ بانس کے سہارے کھڑا ہوتا ہے، اگر بانس نہیں رہے گا تو خیمہ زمین پر آپڑے گا۔کمرے کی طرح کی چیز تو نہیں کہ از خود کھڑا رہے۔اسی طرح عبادت بھی ایک ایسی چیز ہے جو از خود کھڑی نہیں ہوتی اس کی طرف بار بار توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ کی آیت ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ : ۵) میں یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ اے خدا! ہم کمزور ہیں اور عبادت مشکل کام ہے ذرا بھی اس سے غافل ہوئے تو اس کا حق ادا کرنے کے اہل نہیں رہیں گے، اس لئے ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم تجھے سے درخواست کرتے ہیں ، التجا کرتے ہیں کہ ہمیں توفیق بخش کہ ہم نماز کا حق ادا کر سکیں۔اس لئے خصوصیت کے ساتھ نماز کی طرف توجہ دلانا ہمارا اولین فرض ہونا چاہئے۔سارا نظام اس چیز کو ہمیشہ اولیت دے۔( رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ۱ ص۴۷۰) دوسرے اس لئے بھی اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ مذہب کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔حقوق العباد اس کا دوسرا حصہ ضرور ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبادت کے بغیر حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔دنیا کی کسی قوم نے بھی حقوق العباد نہیں سیکھے جب تک کہ اللہ نے نہ سکھائے ہوں صحیح معنوں میں حقوق العباد کی آخری بنیاد میں مذہب میں ہی ملتی ہیں۔اس کے سوا تو باقی سب کچھ چھینا جھپٹی اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنا ہے۔حقوق العباد کے نام پر ظلم کی تعلیم تو دی گئی ہے لیکن انسان نے کسی کو حقوق العباد نہیں سکھائے۔جتنی بھی دنیوی تعلیمات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حقوق العباد حقیقت میں مذہب سے ہی نکلے ہیں اور وہی لوگ حقوق العباد ادا کر سکتے ہیں جو پہلے اللہ کی عبادت کا حق ادا کریں۔جن کی عبادتیں کمزور پڑ جائیں وہ حقوق العباد کی ادائیگی