خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 190
خطبات طاہر جلد ۲ 190 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء میں بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔جو حقوق اللہ ادا نہیں کرتے وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم حقوق العباد ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان خدا کی عبادت تو نہ کرتا ہولیکن خدا کے بندوں کے حقوق ادا کر سکے۔چنانچہ قرآن کریم اس مضمون کو بہت کھول کر بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون ۶،۵) که اگر چه نماز انسان کے لئے زندگی اور اس کی بقا کا موجب ہے اور اس کو فلاح کی طرف لے جاتی ہے، لیکن کچھ نمازیں ایسی ہوتی ہیں جو ہلاکت کا پیغام دیتی ہیں فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ہلاک ہو جائیں ایسے لوگ ایسے نمازیوں پر لعنت ہو الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ جو نمازیں تو پڑھتے ہیں لیکن غفلت کی حالت میں پڑھتے ہیں۔اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ نماز کی ذمہ داریوں سے غافل رہتے ہیں۔نماز جن تقاضوں کی طرف بلاتی ہے یا جن تقاضوں کی طرف بلانے کے لئے نماز پڑھی جاتی ہے ان سے غافل ہو جاتے ہیں یعنی نہ اللہ کی محبت ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے، نہ محض اللہ کام کرنے کی عادت ان کو پڑتی ہے اور نہ وہ حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔یہ ساری چیزیں نماز کی بنیادی صفات ہیں۔چنانچہ ہلاکت والی نماز ادا کرنے والوں کی یہ تعریف بیان فرمائی گئی الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاءُونَ لا وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (الماعون ٦-٨ ) يه وہ لوگ ہیں جو نماز کے بنیادی مقاصد سے غافل ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ریا کاری کی خاطر نماز پڑھنے لگتے ہیں۔اپنے رب کی خاطر نہیں پڑھتے۔اس طرح نماز کے بنیادی مقصد یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق کے قیام سے محروم رہ جاتے ہیں اور جو خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان کی قطعی علامت یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں سے بھی کٹ جاتے ہیں۔جو خدا کے حقوق ادا نہیں کرتے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے حقوق ادا کر سکیں۔چنانچہ فرمایا: وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ کہ یہ لوگ اتنے خسیس ، اتنے کم ظرف ہو جاتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی معمولی معمولی ضرورتیں پوری کرنے سے بھی گریز کرنے لگ جاتے ہیں۔ان کی حالت یہاں تک ہو جاتی ہے کہ اگر ان کے ہمسائے نے آگ مانگی ہے تو اس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے یا تھوڑی دیر کے لئے مثلاً ایک ہنڈیا طلب کی ہے تو اس