خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 181
خطبات طاہر جلد ۲ 181 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء ان حدود تک پہنچتا ہے جہاں اس کو شق ہو جانا ہے جہاں اس کے ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتے ہیں وہاں جنگیں نمودار ہوتی ہیں۔پھر وہ تو میں جو لمبے عرصہ تک جس ذریعہ سے اور جس طاقت سے بھی ہو سکے دنیا میں لوٹ مار کر رہی ہوتی ہیں بالآ خر جب وہ یہ دیکھتی ہیں کہ اب ہم میں لوٹ کھسوٹ کی مزید سکت نہیں رہی ہمارا مالی نظام Collapse یعنی دفعتہ ڈھیر ہو جانے والا ہے اور غربت ہمارے سامنے کھڑی ہے تو وہی وقت ہوتا ہے جب دنیا جنگوں میں مبتلا کی جاتی ہے۔آپس میں بڑا سخت ٹکراؤ اور تصادم ہوتا ہے۔اس معاملہ میں جماعت احمدیہ پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے ابھی اس میں وہ بہت پیچھے ہے۔یہ درست ہے کہ اس وقت جماعت احمد یہ عالمی مالی نظام سے ٹکر لینے کی حیثیت میں نہیں ہے۔سمندر کی لہروں میں اگر ایک قطرہ انتہائی طاقت کے ساتھ بھی پھینکا جائے تب بھی وہ بے چارہ لہروں کے رخ کو تو نہیں بدل سکتا اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ جماعت احمدیہ میں اس وقت یہ طاقت ہے کہ دنیا کے اقتصادی نظام کا رخ بدل دے لیکن یہ طاقت ضرور ہے کہ اپنے دائرہ اثر کے اندر رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہے وہ اسلامی مالی نظام کو جاری کرنے کی کوشش کرے۔اس کی طرف میں آج آپ کو توجہ دلاتا ہوں۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ سودی روپے سے نفرت کرنے لگیں اور بہانے بنا کر اپنی تجارتوں اور کاروبار میں سودی روپے کو داخل نہ کریں۔جہاں تک معاشرہ کی مجبوریوں کا تعلق ہے میں جانتا ہوں کہ تجارتی لین دین کرنے والا ہر احمدی کلیتہ سودی روپیہ ( یعنی روپے پر سود دینے ) سے بیچ نہیں سکتا کیونکہ مالی نظام اس قسم کا بن چکا ہے کہ ایک احمدی تاجر کو بھی لازماً ایسے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے ورنہ وہ تجارت میں زندہ نہیں رہ سکتا۔اگر سودی کاروبار سے کلینتہ الگ ہو جائیں تو مروجہ مالی نظام میں رہتے ہوئے قومی طور پر تجارتی لحاظ سے گویا موت قبول کرنے کے مترادف ہے۔اس مشکل کا حل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ پیش فرمایا ہے کہ جب تک ہم دنیا کے مالی نظام کو تبدیل نہیں کر پاتے ایک بات ہم بہر حال کر سکتے ہیں کہ جہاں بالکل مجبور ہو جائیں وہاں سود دے تو دیں لیکن خود سودی روپیہ سے استفادہ نہ کریں یعنی حرص کا پہلو ہمارے اندر پیدا نہ ہو۔مجبور اگر اپنا مال چھوڑنا پڑے تو اس کے نتیجہ میں حرص تو پیدا نہیں ہوتی لیکن جب روپے کے بدلہ