خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 180
خطبات طاہر جلد ۲ 180 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء جائے گا لیکن افراط زر کے ذریعہ قیمت میں کمی کی شرح اس سے زیادہ ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیوقوفوا تم سمجھ رہے ہو کہ تمہارا روپیہ بڑھ رہا ہے ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ گھٹ رہا ہے۔پھر سودی نظام کے اندر رہتے ہوئے سودی روپے میں برکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ مالی نظام ایسے خطرناک اور ایسے ہوشیار اور کائیاں لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو دیانت سے کلینتہ عاری ہوتے ہیں اور اتنے Callous یعنی سفاک اور بے رحم ہو چکے ہوتے ہیں کہ اس مالی نظام کے شکنجے میں قوموں کے بعد قوموں کو جکڑتے چلے جاتے ہیں اور ان کو غریب سے غریب تر بناتے چلے جاتے ہیں لیکن ان کے دل میں رحم کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ روپیہ دینے والا بھی مارکھا رہا ہوتا ہے اور لینے والا بھی مستوجب سزا بن جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر ایسا وقت آتا ہے کہ لینے والوں کو بھی خدا کے نظام کی طرف سے سزا ملتی ہے اور دونوں جگہ اس نظام کے نتیجہ میں لازماً بد دیانتیاں بڑھتی ہیں ، سفا کی اور خود غرضی بڑھتی ہے۔اس کے برعکس اسلامی مالی نظام انسانی ذہن کونشو ونما اور جلا دینے پر مجبور کرتا ہے ورنہ جرمانہ لگاتا ہے گویالالچ کے نتیجہ میں اقتصادی نظام نہیں چلتا بلکہ جرمانہ کے خوف سے چلتا ہے۔اگر یہ مالی نظام جماعت احمدیہ نے دنیا میں جاری نہ کیا تو یہ دنیا لا ز ما جنگوں کا شکار ہوگی کیونکہ قرآن کریم نے یہ تنبیہ کی ہے کہ اگر تم نے اس ظالمانہ سودی نظام کو ترک نہ کیا تو اللہ اور اس کے نظام سے اور اس کی قدرت سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔مراد یہ ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کے نظام سے ٹکراؤ گے تو نتیجہ جنگ نکلے گا اور اس وقت جو جنگ ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ دنیا کا موجودہ سودی مالی نظام ہے۔ہم مانتے ہیں کہ تیسری عالمگیر جنگ کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں۔بد دیانتیاں ہیں جو ایک دوسرے سے ضرب کھاتی چلی جارہی ہیں اس کے نتیجہ میں جنگ قریب سے قریب آتی چلی جارہی ہے تاہم اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا کا سودی مالی نظام ہے جو بنی نوع انسان کو جنگ کے قریب تر کئے چلا جارہا ہے۔اور اقتصادی ماہرین اس بات کو دن بدن زیادہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ نظام خطرہ کی حد تک پہنچ چکا ہے (اس کی تفصیل بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ورنہ میں بیان کر سکتا ہوں کہ یہ نظام کیوں تباہ کن ہے ) اس لئے کہ اس نظام کے اندر لازماً وہ وجوہات موجود ہیں جس کے نتیجہ میں بالآخر اس نے خود ہی مٹ جانا ہے۔جب یہ نظام