خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 182
خطبات طاہر جلد ۲ 182 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء میں روپے کی حرص پیدا ہو جائے تو ایسی سوسائٹی میں پھر اسلامی نظام نہیں چل سکتا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بار یک فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا کہ جو احمدی تجار دنیا کے مالی نظام میں رہتے ہوئے سود دینے پر مجبور ہیں ان کے لئے یہ ترکیب ہے کہ اگر ان کے روپے پر کچھ سود ملے تو اس کے مقابل پر حساب میں وضع کر دیا کریں اور کوشش یہ کریں کہ سودی نظام سے نہ ان کو کچھ ملے اور نہ ان کو دینا پڑے لیکن اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو دینے والے تو بے شک بن جائیں لیکن سودی روپے پر ذاتی فائدہ اٹھانے والے نہ بنیں۔اگر ان کو ایسا روپیہ ملتا ہے اور مجبور لینا پڑتا ہے یعنی لینے کی خواہش نہیں ہے اور نہ نیت ہے تو ان کی نیت کو پاک کرنے کی خاطر فر مایا تم پر خرچ نہ ہو خدا کے دین کے لئے خرچ کرو۔یعنی سودی نظام کے برعکس نتائج پیدا کرنے کے لئے خرچ کرو۔غریب کی ہمدردی پر خرچ کرو کیونکہ سود تو غریب کو لوٹنا چاہتا ہے اور اسے غریب سے غریب تر کرنا چاہتا ہے۔غریب قوموں کو اور زیادہ بدتر حال میں مبتلا کرنا چاہتا ہے اس لئے بالکل برعکس نتائج پیدا کر دو گے تو اس سے تمہیں نقصان نہیں پہنچے گا۔یہ تھی حکمت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فیصلہ کی (اس معاملہ کے مختلف پہلو مقررہ کمیٹیوں اور مجلس افتا کے زیر غور ہیں جن کے نتائج کا بہت جلد اعلان کر دیا جائیگا ) مگر آجکل میں یہ دیکھ رہا ہوں اور کئی مثالیں میرے سامنے آ رہی ہیں کہ بجائے اس کے کہ احمدی سودی روپے کی حرص سے کلیتہ آزاد ہو جاتے اور وہ اس بات پر مجبور کر دیئے جاتے کہ وہ تجارت کی نئی نئی راہیں تلاش کریں اور دیانتداری ان کے اندر پینے اور دیانتدار اور صاحب صلاحیت لوگ ان کی توجہ کا مرکز بنیں، جماعت کے بعض لوگ کئی بہانوں سے سودی روپے اور سودی حرص میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ایسے لوگ گو بہت تھوڑے ہیں جماعت کی بھاری اکثریت اللہ کے فضل سے پاک ہے لیکن ایک روچل پڑی ہے جو انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔اس کو اگر بڑھنے دیا گیا تو پھر جماعت اس لائق نہیں رہے گی کہ دنیا کے مالی نظام کو تبدیل کر سکے۔وہ رویہ ہے کہ بعض لوگ اپنا روپیہ بعض تاجروں کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بتاؤ کتنے فیصدی منافع دو گے ، ۱۵ فیصدی ۲۰ فیصدی یا ۲۵ فیصدی؟ کتنا منافع دو گے؟ اور اپنے دل کو یہ کہہ کر ، مطمئن کر لیتے ہیں کہ ہم نے سود تو نہیں کھایا ہم نے تو منافع لیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کس کو دھوکہ دے رہے ہو؟ خدا کو دھوکہ دے رہے ہو؟ شرائط تو سودی ہیں اور نام تجارت رکھ لیا گیا ہے۔جب تمہارے