خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 170
خطبات طاہر جلد ۲ 170 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء سے بے نیاز ہوتا ہے کہ اسے اس روپے کے استعمال کے نتیجہ میں کیا فائدہ پہنچا ہے۔اگر فائدہ اتنا زیادہ ہو جائے کہ سو فیصد یا اس سے بھی بڑھ جائے تب بھی وہ ایک معین رقم سے زیادہ روپیہ دینے والے کو روپیہ دینے کا پابند نہیں ہوتا اور اگر اس کو نقصان پہنچ جائے تو خواہ وہ اصل سرمایہ میں سے واپس کرنے پر مجبور ہو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ مجھے چونکہ نقصان پہنچا ہے اس لئے میں اب تمہاری رقم پر کچھ زائد دینے کا پابند نہیں ہوں وہ لاز ما پابند رہتا ہے۔یہ خلاصہ ہے سودی نظام کا اور دنیا کی بھاری اکثریت اس وقت اسی نظام کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔اس کے برعکس اسلام کا مالی نظام مقابلہ ایک بالکل ہی الگ تصور پیش کرتا ہے۔یہ ایک ایسا حیرت انگیز مالی نظام ہے کہ آج کا مالیاتی مفکر اس کو سمجھنے سے قاصر ہے۔چنانچہ اسلام کا مالی نظام یہ کہتا ہے کہ روپے میں بذات خود بڑھنے کی طاقت موجود نہیں بلکہ جب یہ انسانی صلاحیتوں کے ساتھ ملتا ہے تو صلاحیتوں کے ساتھ ضرب کھانے کے بعد اس کا نتیجہ منفی بھی ہو سکتا ہے اور مثبت بھی ہو سکتا ہے۔اگر کسی احمق یا بد دیانت آدمی کے ہاتھ میں تمہارا روپیہ جاتا ہے تو وہ روپیہ کم بھی ہوسکتا ہے اور اگر کسی سمجھ دار اور دیانتدار آدمی کے ہاتھ میں تمہارا روپیہ جاتا ہے تو وہ بڑھ بھی سکتا ہے اس لئے روپیہ انسانی صلاحیتوں کے استعمال کے اظہار کا محض ایک ذریعہ ہے تا ہم صلاحیتوں کے ساتھ مل کر اس کا نتیجہ نکلے گا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر سود لینے والے یعنی سود خوروں کو فرمایا کہ کیا تمہارے روپے بچے دیتے ہیں؟ مراد اسی فلسفے کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ روپیہ محض ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے نتیجہ میں انسانی صلاحیتیں اگر چمکدار اور ترقی یافتہ ہیں تو وہ اس روپے کو بڑھا دیں گی اور اگر وہ صلاحیتیں خوابیدہ ہیں یا ان میں بعض اور نقائص پائے جاتے ہیں تو اس روپے کو کم بھی کرسکتی ہیں اور یہی امر واقعہ ہے جس کو ظاہری طور پر اس وقت ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔بعض بڑے بڑے امیر تاجروں کے بچے بہت سی دولتوں میں پیدا ہوتے ہیں لیکن جان وہ اس حال میں دے رہے ہوتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کی ساری کمائی کو وہ اپنے ہاتھوں ضائع کر چکے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس بہت ہی غریب گھروں میں آنکھیں کھولنے والے بچے جن کے پاس کوئی جائیداد نہیں ہوتی کوئی سرمایہ نہیں ہوتا وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پہلے تھوڑا سا سرمایہ پیدا کرتے ہیں اور پھر اس سرمائے کو بڑھا کر بہت بڑے بڑے خزانے اکٹھے کر لیتے ہیں۔اسلام