خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 169

خطبات طاہر جلد ۲ 169 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء اسلام کا حیرت انگیز مالی نظام (خطبه جمعه فرموده ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے سورہ بقرہ کی مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: يَمْحَقُ الله الرّبُوا وَيُرْبِي الصَّدَقْتِ وَاللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيهِ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكُوةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَا ذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ ج تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ) (آیات ۷ ۲۷-۲۸۰) اور پھر فرمایا: جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں دو قسم کے مالی نظاموں کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ایک تو اسلامی مالی نظام ہے دوسرا سودی مالی نظام ہے جس کا آج دنیا کی اکثریت پر قبضہ ہے۔اس سودی مالی نظام کی بنیاد اس بات پر ہے کہ روپے میں گویا براہ راست بذات خود نشو ونما کی طاقت پائی جاتی ہے اس لئے روپیہ دینے والا یہ توقع رکھتا ہے کہ لازماً اس روپے پر اسے سالانہ کچھ رقم ملنی شروع ہو جائے۔وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرا روپیہ بڑھ رہا ہے اور سود پر روپیہ لینے والا اس بات