خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 171
خطبات طاہر جلد ۲ 171 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء صرف فطرت کے اس واقعی اظہار کو قبول کرتا ہے اور کسی فرضی مالی نظام کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا۔لیکن صرف اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ ایک اور قدم آگے بڑھ کر یہ کہتا ہے کہ اپنے روپے کو نہ صرف قرضہ حسنہ کے طور پر دو بلکہ اس طرح دو کہ بظاہر تمہیں اس سے کچھ بھی نفع نہیں ملے گا اور خدا کی راہ میں کثرت سے خرچ کرو اور اسی کا نام زکوۃ ہے۔اگر تم خدا کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ نہیں کرو گے تو تمہارے ساتھ ایک بالکل مختلف سلوک کیا جائے گا۔تمہارا مال بڑھنے کی بجائے کم ہوگا یعنی مال میں بذات خود بڑھنے کی طاقت نہیں ہے اس لئے اگر تم اس کا حکیمانہ استعمال نہیں کرو گے یا اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرو گے تو یہ تمہارا روپیہ اسلامی قانون کے تابع کم ہونا شروع ہو جائے گا۔یہ ہے اسلامی نظام کا مد مقابل کا تصور۔اب یہ حیرت انگیز بات ہے کہ بظاہر اسلام مسلمانوں کے روپے کے متعلق ایسی تعلیم دیتا ہے جس کے ذریعے روپے کو اجاڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔دنیا کا مالی نظام اس سے اتنا مختلف ہے کہ ماہرین مالیات کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آ سکتی۔وہ کہتے ہیں عجیب مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کا روپیہ بڑھانے کی بجائے کم کرنے کی ترکیبیں پیش کر رہا ہے۔پہلے کہتا ہے کہ جب تم روپیہ دو تو تم زیادہ سے زیادہ شراکت کر سکتے ہو اور تجارتی اغراض کے لئے جس کے پاس بھی روپیہ رکھواتے ہواگر اسے نقصان ہوا تو تمہیں پوری ذمہ داری سے اسے قبول کرنا پڑے گا۔اگر اسے فائدہ ہوا تو برابر کے فائدے میں شریک ہو سکتے ہو لیکن لازماً تمہارا روپیہ بڑھے گا نہیں اس کے خطرات کمی کے بھی اسی طرح ہیں جس طرح انسانی زندگی کو ہر جگہ خطرات در پیش ہیں۔پھر فرماتا ہے کہ اگر تم قرضہ حسنہ دے سکو یعنی اس پر ایک آنہ بھی نفع نہ لوتو یہ بہت اچھی بات ہے۔پھر فرماتا ہے کہ بجائے اس کے کہ تم لوگوں کو قرض دو تم ہمیں قرض دو اور وہ قرض ایسا قرض ہوگا کہ اس دنیا میں بظاہر تمہیں اس میں سے ایک آنہ بھی لوٹا یا نہیں جائے گا۔تم یہ فیصلہ کر کے قرض دو گے کہ یہ روپیہ ہم خدا کے نام پر خدا کے بندوں کو دے رہے ہیں یا خدا کے نام پر خدا کی جماعت کو دے رہے ہیں۔گویا جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے وہ روپیہ تمہارے ہاتھ سے اب نکل گیا۔یہ بات تمہاری نسیت میں شامل ہوگی کہ میں نے اب کبھی اس روپیہ کو دوبارہ واپس نہیں لینا۔یہ اسلام کے مالی نظام کا