خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 146
خطبات طاہر جلد ۲ 146 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء ہیں، اتنے بچے یتیم کئے گئے ہیں، اتنی عورتوں کے سہاگ لٹ گئے اور دنیا میں اتنے دکھ پھیلے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔کوئی منطقی اور کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ اللہ کی طرف بلانے کے نتیجہ میں دنیا میں فساد پھیلیں اس لئے اس پر غور کرنا چاہئے کیونکہ آگے جا کر یہ آیات متنبہ بھی کرتی ہیں اور صبر کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ تم اپنے خدا کی طرف پوری دیانتداری اور خلوص سے بلاؤ گے پھر بھی تمہاری مخالفتیں ہوں گی۔ایسا کیوں ہوگا اس پر کچھ غور کرنا چاہئے۔اللہ ایک نعمت ہے۔نعمت کی طرف بلانے کے نتیجہ میں لوگوں کو غصہ تو نہیں آیا کرتا۔ہاں نعمت کو اگر انسان اپنی ذات میں سمیٹ کر بیٹھ جائے اور اس پر قبضہ کر لے اور یہ کہہ دے کہ یہ نعمت کسی اور کے لئے نہیں ہے صرف میرے اور میرے عزیزوں کے لئے ہے تو پھر لازماً فساد پیدا ہوتا ہے لیکن یہاں تو دعوی کا آغاز ہی یہ کہہ کر کیا گیا ہے کہ دنیا کو اس نعمت کی طرف بلاؤ اور کہو یہ صرف ہماری ہی نہیں یہ تمہاری بھی ہے۔یہ تمہارے اور ہمارے درمیان قدر مشترک ہے ہم اکیلے اس کے حق دار نہیں ہیں تم بھی آؤ اور اس میں شریک ہو جاؤ۔اس اعلان کے بعد پھر فساد کیوں؟ اب آپ دیکھیں کہ امریکہ میں سونے کی کانوں کی تلاش ہوتی تھی۔بے شمار ٹولیوں کی ٹولیاں سونے کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی تھیں۔جس کو سونا ملتا تھا وہ اس کوگھیر لیتا تھا اس کے اردگرد باڑیں بناتا تھا اس پر قبضہ کر لیتا تھا اس کے نتیجہ میں بڑے خون خرابے ہوئے۔بڑے جھگڑے اور لڑائیاں ہوئیں لیکن اس لئے ہو ئیں کہ نہ پانے والوں نے پانے والوں کو مارا۔پانے والا کبھی نہ پانے والے کو نہیں مارتا تھا اور وجہ یہ تھی کہ پانے والے کو اس لئے مارا گیا کہ اس نے کسی اور کو شریک نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تو بات ہی اس طرح شروع کی کہ اس میں فساد کی جڑھ ہی کاٹ دی۔فرمایا اللہ تمہیں مل گیا ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر ملتے ہی اس کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کر دو تا کہ حسد کی وجہ سے با ہمی نفرت اور بغض کی جو ایک ہی وجہ پیدا ہو سکتی تھی وہ بھی زائل اور باطل ہو جائے۔کہو کہ یہ تمہارا بھی رب ہے اور ہم داروغے نہیں ہیں، ہمیں اس پر ملکیت کے کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں، وہ تمہارا بھی اسی طرح رب بن سکتا ہے جس طرح ہمارا بنا تھا۔اب بتائیے ایسی صورت میں پھر نفرت کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔تو ایک اور وجہ نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ نہ پانے والوں کے پاس نہ صرف یہ کہ خدا نہیں