خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد ۲ 145 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء ایک لامتناہی سلسلہ ہے جوکسی کنارہ پر کبھی نہیں پہنچ سکتا۔بات ختم ہی نہیں ہوگی۔آپ ایک زبان میں سب کچھ سمجھا دیں تب بھی ایسی بہت سی زبانیں پڑی ہیں جن کے اندر بہت سے مذاہب کے علوم پھیلے پڑے ہیں۔یہ یقین پیدا ہوہی نہیں سکتا کہ ان مذاہب میں جو باتیں تھیں وہ کیوں درست نہیں یا کیوں درست ہیں اس لئے پتہ کی بات کی گئی ، سیدھی بات کی گئی، جو مقصد ہے اس کو بیان فرمایا گیا کہ سارے مسلک اور یہ گورکھ دھندے اور یہ رستوں کی تفصیلیں اور یہ تعلیمات کے جھگڑے کیوں ہیں؟ کس طرف بلانے کے لئے ہیں؟ صرف اللہ کی طرف بلانے کے لئے ہیں اس کے سوا انسان کو مذہب میں دلچسپی ہو ہی نہیں سکتی۔انسان کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ وہ وید کو مانے یا قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرے یا بائیل کی مشکل تعلیمات پر قدم مارے یا اور مذاہب کے پیچھے لگ کر اپنی زندگی کو مختلف قسم کی تعلیمات کی رو سے کرو یا نہ کرو گے جھگڑوں میں مقید کرے۔پاگلوں والی بات لگتی ہے۔اگر اس کا وہ مقصد نہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے یعنی اللہ کی طرف بلانے کا کیونکہ خالق سے اس کی مخلوق کو ایک فطری تعلق ہے اور خالق کی طرف جانے کے لئے انسان کی فطرت میں ایک ایسی طبعی تمنا گوندھی گئی ہے جس کو قرآن کریم اس طرح بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انسان سے پوچھا (اس کی تخلیق سے بھی پہلے ) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں قَالُو ابکی (الاعراف :۱۷۳) روحوں نے کہا کہ ہاں تو ہمارا رب ہے۔پس مخلوق کو خالق سے ایک فطری تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور خالق کو بھی اپنی مخلوق سے ایک طبعی محبت ہوتی ہے بیچ میں اور کوئی رشتہ باقی نہیں رہتا اس لئے فرمایا اپنے خالق کی طرف لوگوں کو بلا ؤ۔جو لوگ خدا کی ہستی کے قائل ہیں ان کو تو خدا چاہئے جہاں بھی ملے جس نام پر ملے، ہاں تمہیں یہ بتانا پڑے گا کہ خدا تمہارے پاس ہے اور وہ لوگ جو خدا کی ہستی کے قائل نہیں ہیں ان کے ساتھ مذہب کی بات چل نہیں سکتی جب تک ان کو پہلے یہ نہ بتاؤ کہ خدا موجود ہے اور اس کے ماننے کے لئے ان کے دل میں ایک تمنا، ایک خواہش ، ایک ضرورت پیدا نہ کر دو۔اس تعلیم کا جیسے کہ میں نے بیان کیا تھا ایک طبعی فائدہ یا ایک قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس سے کسی نفرت کا بیچ نہیں بویا جاتا اسی لئے فرمایا وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا اس سے زیادہ حسین قول اور کون سا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی طرف بلا رہے ہو لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسی اللہ کی طرف بلانے کے نتیجہ میں دنیا میں اتنے فساد ہوئے ہیں، اتنی لڑائیاں ہوئی ہیں، اتنے مظالم ہوئے ہیں، اتنے گھر جلائے گئے