خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد ۲ 147 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء بلکہ وہ عملاً خدا کی ہستی کے قائل ہی نہیں رہے۔ان کو جب کسی خدا کے تصور کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ کچھ چیزوں سے محروم ہو جانے کے خیال سے ڈر جاتے ہیں۔یعنی خدا کی نعمت پر راضی نہیں بلکہ خدا کے نام پر دنیا میں اپنی سرداریوں پر راضی ہیں۔خدا کی سرداری پر راضی نہیں بلکہ خدا کے نام پر اپنی لیڈرشپ قائم کرنے کے نتیجہ میں وہ مطمئن ہیں۔ان کے لئے خدا بحیثیت نعمت کوئی وجود نہیں رکھتا بلکہ وہ نعمتیں اپنی ذات میں اہمیت رکھتی ہیں جو خدا کے نام پر دنیا سے حاصل کرتے ہیں اور جب خدا کی طرف بلانے والے آتے ہیں تو وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کی نعمت تو فی ذاتہ کوئی چیز نہیں ہے اس میں تو ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ہاں خدا کا نام لے کر یا خدا نام لینے والوں میں ہمیں شمار کرنے کے نتیجہ میں دنیا ہمیں نعمتیں عطا کرتی ہے ، ہماری سرداریوں کو قبول کرتی ہے، جتھے میں ہمارے پیچھے چلتی ہے، ان کی دوستیں ہماری راہ میں قربان کی جاتی ہیں لیکن یہ بلانے ولا ایک ایسی فرضی نعمت کی طرف بلا رہا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری ٹھوس ظاہری دنیاوی نعمتیں ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں گی۔پس یہ وجہ ہے جو نفرت کا سبب بن جاتی ہے۔سارے مذاہب کی تاریخ کا یہی خلاصہ بنتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے جب خدا کی طرف دنیا کو بلایا تو یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ خدا تو صرف میرا ہے اور تمہارانہیں ہے بلکہ یہ اعلان فرمایا تھا: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكيف: 1) کہ اے بنی نوع انسان ! میں تم پر کسی ایسی فضیلت کا دعویٰ نہیں کر سکتا نہ کرتا ہوں جو تمہیں حاصل نہیں ہوسکتی۔میں بھی تو تمہاری طرح کا ایک بشر تھا جسے وحی نے نور بنادیا ہے اور یہ وحی صرف میرے لئے مخصوص نہیں خدا کے ہر بندہ کے لئے کھلی ہے۔فرمایا مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّ؟ یہ ایک کھلی دعوت ہے، ایک صلائے عام ہے، جو شخص بھی اس عظیم الشان مقام کو پسند کرے اور جو بھی اب مجھے دیکھ کر میری فضیلت کو پہچان کر اپنے رب کی طرف دوڑنا چاہے اور اس رب کو پانا چاہے جو میں نے حاصل کیا ہے اور اس کی لقا کی تمنا کرے فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا پھر وہ عمل صالح کرے تو خدا اسے مل جائے گا۔دیکھئے یہاں معابعد پھر وہی عمل صالح والا مضمون داخل کر دیا گیا ہے۔پہلے بھی تو یہی فرمایا تھا