خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 144

خطبات طاہر جلد ۲ 144 خطبه جمعه ۱۱/ مارچ ۱۹۸۳ء کی طرف بلاتے ہیں تو اس میں غصہ کی کون سی بات ہے نفرت کا کوئی مقام ہی نہیں ہے اور وہ جو خدا کے قائل نہیں ہیں اگر خدا کی طرف بلائے بغیر ان کو کسی مذہب کی طرف بلایا جائے تو نہایت ہی لغو فعل ہوگا اور ساری بحثیں بے معنی اور بے حقیقت اس لئے جو د ہر یہ ہو اس سے تو لا زمابات ہی خدا کی ہستی سے شروع کرنی پڑتی ہے۔پس دونوں پہلوؤں سے نہایت ہی پر حکمت کلام ہے۔فرمایا أُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ اپنے رب کی طرف بلاؤ۔دوسری جگہ فرمایا اللہ کی طرف بلاؤ۔مذہبی تقسیمیں بعد میں آئیں گی اور وہ جب آئیں گی تو پھر اس کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ روشنی ڈالے گا کہ کس طرح اس معاملہ میں گفتگو کرنی ہے۔لیکن پہلے جہاں اللہ کی طرف بلانے کا حکم ہے وہاں اس پر مزید غور کرنا چاہئے کہ اس میں اور کیا حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اللہ کی طرف بلانے کا اور کیا طریق ہے۔مذاہب کے درمیان اللہ ایک قدر مشترک ہے اور وہ پہلا اور آخری مقصد ہے جس کی طرف ہر مذہب بلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات مقصد سے شروع کرو۔اگر تم مذاہب کے ناموں کی تقسیم میں پڑ جاؤ گے، فرقہ بازی میں مبتلا ہو جاؤ گے تو اتنی الجھنیں پیدا ہوسکتی ہیں اور بحث اتنی طویل ہو سکتی ہے کہ ہوسکتا ہے ایک انسان بلکہ انسانوں کی ایک پوری نسل ہمیشہ اس جستجو میں منہمک رہے اور پھر بھی وہ کسی مقصد کو نہ پاسکے۔دیکھئے دنیا میں مذاہب کی فہرست کتنی طویل ہے۔وہ جو مر چکے ہیں ان کے بھی آثار باقیہ ابھی تک ملتے ہیں اور جو زندہ سمجھے جاتے یعنی جن کو دنیا کی اصطلاح میں زندہ کہا جاتا ہے وہ بھی ایک بہت بڑی تعداد میں دنیا میں پائے جاتے ہیں۔پھر ان کے اتنے فرقے ہیں کہ انکی فہرستیں پڑھتے پڑھتے بھی خاصا وقت لگ جاتا ہے۔سینکڑوں فرقے تو صرف عیسائیت ہی کے ہیں اور پھر ان فرقوں کی آگے تقسیم کی جائے تو ایک ہی فرقے ہیں متفرق الخیال لوگ اس کثرت سے ملتے ہیں کہ ان کی گنتی ممکن نہیں اور پھر یہ مذاہب مختلف ممالک میں مختلف زبانیں بولنے والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ان کے علم کی کتابیں کچھ معروف ہیں اور کچھ غیر معروف بلکہ ایسی زبانوں میں جن کو دنیا کے اکثر انسان سمجھ ہی نہیں سکتے۔پس اگر یہ کہہ کر بلانا شروع کیا جائے کہ ہمارے مذہب کی طرف آؤ ہمارا مذہب سچا ہے اور پھر جو علمی جستجو کے تحت انسان کو سچائی کی تلاش کرنے کی دعوت دی جائے تو یہ تحقیق کا