خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد ۲ 144 خطبه جمعه ۱۱ مارچ ۱۹۸۳ء کی طرف بلاتے ہیں تو اس میں غصہ کی کون سی بات ہے نفرت کا کوئی مقام ہی نہیں ہے اور وہ جو خدا کے قائل نہیں ہیں اگر خدا کی طرف بلائے بغیر ان کو کسی مذہب کی طرف بلایا جائے تو نہایت ہی لغو فعل ہوگا اور ساری بخشیں بے معنی اور بے حقیقت اس لئے جو د ہر یہ ہو اس سے تو لازماً بات ہی خدا کی ہستی سے شروع کرنی پڑتی ہے۔ پس دونوں پہلوؤں سے نہایت ہی پر حکمت کلام ہے۔ فرمایا اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ دوسری جگہ فرمایا اللہ کی طرف بلاؤ۔ مذہبی تقسیمیں بعد میں آئیں گی اور وہ جب آئیں گی تو پھر اس کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ روشنی ڈالے گا کہ کس طرح اس معاملہ میں گفتگو کرنی نی ہے۔ لیکن پہلے جہاں اللہ کی طرف بلانے کا حکم ہے وہاں اس پر مزید غور کرنا چاہئے کہ اس میں اور کیا حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اللہ کی طرف بلانے کا اور کیا طریق ہے۔ مذاہب کے درمیان اللہ ایک قدر مشترک ہے اور وہ پہلا اور آخری مقصد ہے جس کی طرف ہر مذہب بلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات مقصد سے شروع کرو۔ اگر تم مذاہب کے ناموں کی تقسیم میں پڑ جاؤ گے، فرقہ بازی میں مبتلا ہو جاؤ گے تو اتنی الجھنیں پیدا ہو سکتی ہیں اور بحث اتنی طویل ہو سکتی ہے کہ ہو سکتا ہے ایک انسان بلکہ انسانوں کی ایک پوری نسل ہمیشہ اس جستجو میں منہمک رہے اور پھر بھی وہ کسی مقصد کو نہ پاسکے۔ دیکھئے دنیا میں مذاہب کی فہرست کتنی طویل ہے۔ وہ جو مر چکے ہیں ان کے بھی آثار باقیہ ابھی تک ملتے ہیں اور جو زندہ سمجھے جاتے یعنی جن کو دنیا کی اصطلاح میں زندہ کہا جاتا ہے وہ بھی ایک بہت بڑی تعداد میں دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ پھر ان کے اتنے فرقے ہیں کہ انکی فہرستیں پڑھتے پڑھتے بھی خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ سینکڑوں فرقے تو صرف عیسائیت ہی کے ہیں اور پھر ان فرقوں کی آگے تقسیم کی جائے تو ایک ہی فرقے ہیں متفرق الخیال لوگ اس کثرت سے ملتے ہیں کہ ان کی گنتی ممکن نہیں اور پھر یہ مذاہب مختلف ممالک میں مختلف زبانیں بولنے والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں ۔ ان کے علم کی کتابیں کچھ معروف ہیں اور کچھ غیر معروف بلکہ ایسی زبانوں میں جن کو دنیا ۔ کے اکثر انسان سمجھ ہی نہیں سکتے ۔ پس اگر یہ کہہ کر بلانا شروع کیا جائے کہ ہمارے مذہب کی طرف آؤ ہمارا مذہب سچا ہے اور پھر جو علمی جستجو کے تحت انسان کو سچائی کی تلاش کرنے کی دعوت دی جا۔ جائے تو یہ تحقیق کا