خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 8
خطبات طاہر جلد ۲ 8 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا تو یہ سلوک تھا کہ آپس کے مشورہ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یوسف کو کنویں میں پھینکو جو اندھا کنواں ہو اور بچنے کے امکان ہوں ، وہاں سے قافلے گزرتے ہوں اور کسی قافلہ والے کی نظر پڑ جائے اور ہمارے بھائی کو بچا کر لے جائے۔یہ بھی ظلم تو تھا۔لیکن ہرگز نہ کسی نے نہ چھیڑ ماری ، نہ دکھ دیا ، نہ گالیاں دیں بلکہ پڑے پیار کے ساتھ وہاں کھیلتے کھلاتے اسے کنویں میں چھوڑ کر خود بھاگ آئے۔اس ظلم کے واقعہ کے بعد کتنے ہی سال گزر جاتے ہیں پھر جب وہ دوبارہ اپنے بھائی کے سامنے آتے ہیں اور ایسے حال میں آتے ہیں کہ ان کی حالت بڑی قابل رحم ہے، فاقوں سے ان کے پیٹ ان کی کمروں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ، بھوک سے تنگ آکر انہوں نے کتنی مشقت کا سفر اختیار کیا، ایسی قابل رحم حالت میں اتنی مدت کے بعد اگر ایسا بھائی کوئی مل جائے تو انسان فطرت میں از خود رحم کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اور پھر بعد کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک دفعہ آئے پھر دوسری دفعہ آئے۔ملکی قانون اتنا سخت تھا کہ اپنے بھائی کو قانون ملک کے خلاف اپنے پاس روک بھی نہیں سکتے تھے انہوں نے بدلہ کیا لینا تھا۔بدلہ تو لیتا ہے مطلق العنان حاکم جس کے قبضہ قدرت میں کئی چیزیں ہوں۔قرآن کریم کا یہ احسان ہے کہ حضرت یوسف کے حسن کو اس رنگ میں پیش فر مایا ورنہ اگر آپ تجزیہ کر کے دیکھیں تو بدلہ کی تو طاقت کوئی نہیں تھی۔معافی سے مراد یہ ہے کہ میں نے دل سے تمہارا دکھ دور کر دیا۔اس سے زیادہ اس معافی کے کوئی معنی نہیں۔لیکن جہاں تک انتقام نہ لینے کا تعلق ہے اس کا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ سے وہاں کوئی تعلق نہیں بنتا کیونکہ اس ملک کے قانون میں حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ دخل نہیں تھا کہ قانون تبدیل کر کے اپنے بدلے چکانے کے لئے کسی پر کوئی زیادتی کر سکیں یہ قرآن کریم کی گواہی ہے۔اس کے مقابل پر حضرت محمد مصطفی ﷺ کا واقعہ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ دیکھیں تو کوئی نسبت آپس میں نظر نہیں آتی۔یہ بھی حضور اکرم ﷺ کا احسان تھا کہ حضرت یوسف کا ذکر فرما دیا اور ان کے الفاظ میں ذکر فر مایا اور بجز کی انتہا ہے کہ اپنی طرف سے توجہ ہٹا کر حضرت یوسف کی طرف پھیر دی حالانکہ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا واقعہ جو مکہ میں رونما ہوا اس کی الگ الگ اور ہر پہلو سے حیرت انگیز شانیں ہیں۔الله اس کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعہ تھا کیا ؟ سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ عرب قوم کا اپنا طریق کیا تھا، کیا ان میں معافی کے جذبے پائے جاتے تھے اور یہ کہ وہ کس قد رعفو