خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد ۲ 9 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء کرنے والے لوگ تھے اور کس حد تک وہ کینوں میں مبتلا قوم تھی۔اس قومی پس منظر کو بھلا کر ہم کس طرح اس واقعہ کا جائزہ لے سکتے ہیں۔عرب قوم کے معاملات کا چھوٹا سا اندازہ آپ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ انکی بعض لڑائیاں سوسو سال تک چلتی رہی ہیں، معمولی معمولی باتوں پر بدلہ لینا ان کی سرشت میں داخل تھا ، وہ ہرگز معافی کا نام نہیں جانتے تھے ، بدلہ کے معاملہ میں اپنے عزیز ترین اقربا سے بھی بدلہ لیتے تھے اور اس میں ان کے تشدد کا یہ حال تھا کہ ادنی ادنی چیزوں کا بدلہ اعلیٰ اعلیٰ چیزوں سے لیا کرتے تھے اور پھر اس پر فخر کرتے تھے۔خانہ کعبہ میں ایسے قصیدے لٹکائے جاتے تھے جن میں اپنے مظالم کی داستانوں پر فخر کیا جا تا تھا۔یعنی وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہم بدلہ لینے والی قوم ہیں اور ہرگز معاف نہیں کر سکتے چنانچہ عرب میں ایک ایسی جنگ لڑی گئی جس میں بنو تغلب اور بنو بکر کے درمیان جنگ اس وجہ سے شروع ہوئی کہ بنو تغلب کا سردار کلیب بڑا طاقتور اور صاحب اثر عرب رئیس تھا۔اس کی بیوی حلیلہ قبیلہ بنو بکر سے تھی۔اس حلیلہ کا ایک بھائی تھا جس کا نام جساس تھا جو اپنی خالہ بسوس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔بسوس کے پاس ایک شخص سعد نامی بطور مہمان آکر ٹھہرا۔سعد کی ایک اونٹنی تھی جو کلیب کی چراگاہ میں جساس کی اونٹنیوں کے ساتھ مل کر چرا کرتی تھی۔کلیب نے ایک پرندہ کو پناہ دی۔پناہ بھی کیا دی ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ کلیب ایک درخت کے نیچے سے گزر رہا تھا کہ درخت کے اوپر سے اس کو ایک پرندہ کی آواز آئی ، کلیب نے نظر اوپر اٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک پرندہ نے اس درخت پر ایک گھونسلہ بنا کر اس میں انڈے دے رکھے تھے۔کلیب نے اس پرندہ کی طرف دیکھ کر کہا "اچھا میں تمہیں پناہ دیتا ہوں تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑے گا“۔دوسرے دن جب کلیب وہاں سے گزرا تو اس نے اوپر نظر اٹھائی، دیکھا کہ گھونسلہ ٹوٹا ہوا ہے اور انڈے درخت سے نیچے گرے پڑے ہیں اور پرندہ او پر درد بھری آواز نکال رہا ہے۔اس نے ادھر ادھر نظر کی تو سعد کی اونٹنی چر رہی تھی اسے شک پڑا کہ شائد اس اونٹنی نے درخت کے پتے کھاتے کھاتے پرندہ کا گھونسلہ بھی تو ڑ دیا ہو۔چنانچہ وہ غصہ سے مغلوب ہو کر اپنی بیوی کے بھائی جساس کے پاس گیا اور کہا دیکھو جساس! آج میرے دل میں ایک سودا سمایا ہوا ہے کہ شاید میں کچھ کر گزروں۔آج کے بعد تمہارے مہمان کی اونٹنی میری چراگاہ میں نہیں چھرے گی اور اگر یہ میری چرا گاہ میں دیکھی گئی تو میں اس کے دودھ دان میں تیر مار کر اسے دکھوں کے ساتھ ہلاک کر دوں گا۔یہ تھی