خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد ۲ 120 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء حکمت کے نکالا کرنا۔اگر تمہارا جواب درست ہوگا تو ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں بلکہ ضمانت دیتے ہیں کہ تمہاری کوششوں کو میٹھے پھل لگیں گے۔پھر حکمت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ مناسب زمین کا انتخاب کیا جائے۔دنیا میں بے شمار مخلوق ہے جس کو خدا کی طرف بلانا ہے۔انسان نظری فیصلے سے یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کن لوگوں پر نسبتا کم محنت کرنی پڑے گی ، کن لوگوں پر نسبتا زیادہ محنت کرنی پڑے گی اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرے اور نسبتا سخت زمینوں میں محنت کرنی شروع کر دے تو اس کی محنت کو لازماً بہت کم پھل لگے گا۔اب یہاں سندھ میں بعض زمینیں ہیں جو بڑی سخت کلر والی ہیں ، بعض زمینیں ہیں جو بڑی زرخیز ہیں اگر تو زمیندار بے چارہ مجبور ہے اس کی زمین ہی تھوڑی ہے تو اس نے لازماً کلر کو ٹھیک کرنا ہی کرنا ہے۔وہ محنت کرے گا ، زور لگائے گا لیکن اگر وسیع زمیندارہ ہو یعنی اتنی زمین ہو کہ اس کی سنبھال سے باہر ہو تو اس وقت کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو کلر سے کام شروع کرے گا۔اس وقت تو انسان اچھی زمینیں چنے گا اور اپنے اختیار اور توفیق کے مطابق اس سے بہترین پھل حاصل کرے گا۔لیکن میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض اوقات بعض احمدی بعض ایسے لوگوں کے ساتھ سر مارتے رہتے ہیں جن کے متعلق ان کی فطرت گواہی دیتی ہے کہ یہ ضدی اور متعصب ہیں اور ان کے اندر تقوی نہیں ہے اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تو ہدایت کا وعدہ ان لوگوں سے کیا ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں، جن کے اندر سچائی کو سچائی کہنے کی ہمت اور حوصلہ ہے۔پس ایک دفعہ، دو دفعہ، چار دفعہ جب آپ کسی سے گفتگو کرتے ہیں تو آپ کا ذہن خود ہی آپ کو بتا دیتا ہے کہ یہ نارمل آدمی نہیں ہے۔نارمل دلیل کا جو اثر اس پر ظاہر ہونا چاہئے وہ ظاہر نہیں ہو رہا ہوتا۔جس طرح زمیندار جب بل لے کر کھیت میں چلتا ہے تو اگر اینٹوں روڑوں والا کھیت ہو تو اینٹ روڑے اس کو بتا دیتے ہیں کہ یہ عام زمین نہیں ، یہ مختلف زمین ہے۔پھر جب وہ کسی جگہ بیج پھینکتا ہے اور وہاں کلر کی وجہ سے چیز پوری طرح اگتی نہیں تو خواہ بظاہر کلر نہ بھی نظر آ رہا ہوتب بھی وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ زمین ٹھیک نہیں ہے۔بالکل اسی طرح تبلیغ میں بھی حکمت کے تقاضے یہ ہیں کہ اگر آپ کے پاس زمین زیادہ ہے تو اچھی زمین کا انتخاب کریں کیوں وقت ضائع کرتے ہیں ایسی زمین پر جس نے خود اپنے رد عمل سے ظاہر کر دیا ہے کہ میں اس لائق نہیں ہوں کہ جلدی اصلاح پذیر ہو جاؤں اس لیے جو زیادہ لائق ہے اس