خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد ۲ 121 خطبه جمعه ۲۵ / فروری ۱۹۸۳ء کا انتخاب کریں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک بہت ہی عجیب بات کہی تھی جسے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑی بدخلقی کا کلام تھا۔الزامی جواب کے طور پر ہم اسے استعمال کرتے ہیں اور کریں گے لیکن اگر آپ اس بات کی حکمت پر غور کریں تو ہے وہی حکیمانہ بات جو ہر نبی کو بجتی ہے۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ میں سوروں کے سامنے کس طرح موتی ڈال دوں۔( متی باب ۷ آیت ۶) مراد یہ تھی کہ تم لوگ جو سامنے آئے ہو تمہاری فطرت گندی ہے۔میں جانتا ہوں، خدا تعالیٰ نے مجھے یہ بصیرت عطا فرمائی ہے کہ میں انسان کو پہچانتا ہوں۔میرے پاس حق و حکمت کے جو موتی ہیں یہ تو حق داروں کو میں دوں گا جو جلدی قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سوروں کے سامنے موتی ڈالنا تو میرا کام نہیں ہے۔جس طرح ہم اردو میں کہتے ہیں کہ بھینس کے سامنے بین بجانے والی بات ہے اس لئے اگر آپ بھینس کے سامنے بین بجائیں گے اور ناقدروں کے سامنے موتی ڈالیں گے تو ویسا ہی پھل پائیں گے۔پس حکمت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ خوب پہچانیں ،سعید فطرت لوگوں کو چنیں اور ان میں سے بھی پہلے جرات مندوں کو چنیں جو مردانہ صفات رکھتے ہوں۔وہ ایسے ہوں کہ آپ کے مددگار بنیں، آپ کے معین بنیں، وہ خود مبلغ بن جائیں۔بعض دفعہ ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اس مبلغ سے بڑھ کر مبلغ بن جاتے ہیں جس نے ان کو تبلیغ کی ہوتی ہے۔پھر فصل کی نگہداشت کرنا بھی تو حکمت کا تقاضا ہے۔آپ اپنی کھیتی میں ہل چلاتے اور محنت کر کے اس میں بیج بوتے ہیں اور پھر پانی بھی دیتے ہیں پھر اس کھیتی کو چھوڑ کر تو نہیں چلے جایا کرتے کہ اب اگلے سال جب پھل کا وقت آئے گا تو برداشت کرلیں گے۔بیچ میں کئی چور بھی آئیں گے، ان میں کئی بیماریاں بھی پڑیں گی ، خشک سالی بھی آئے گی، وہ فصل تقاضے بھی کرے گی کہ اس کی تلائی ( گوڈی) کی جائے غرض سوطرح کی محنتیں کرنی پڑتی ہیں۔جس طرح ایک بچہ پالا جاتا ہے اسی طرح فصلیں پالی جاتی ہیں۔چنانچہ یہاں بھی اسی ایک لفظ حکمت میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ تم جب تبلیغ کرتے ہو یا کرو گے تو بہت لطف اٹھاؤ گے کہ آج بڑا مزہ آیا ، بڑی اچھی تبلیغ ہوئی ، لیکن اگر یہ لطف لے کر واپس آجاؤ گے اور پھر دوبارہ اس شخص کی تلاش نہیں کرو گے اور دوبارہ اس سے نہیں ملو گے اور پھر سہ بارہ اس سے نہیں ملو گے اور پھر چوتھی دفعہ اس سے نہیں ملو گے اور پانچویں دفعہ نہیں ملو گے تو تم اپنے پھل سے محروم کر دیئے جاؤ گے کیونکہ وہ نیک اثر ا بھی دائمی نہیں ہوا،