خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 116

خطبات طاہر جلد ۲ 116 خطبه جمعه ۲۵ / فروری ۱۹۸۳ء بے دھڑک دروازوں میں سے اندر داخل ہوتے ہیں۔لیکن نیا آدمی ہو اس کے لئے اس کی مثال بالکل ایسے گھر کی سی ہے جو اندھیرے میں ہے، اس کے راستوں کا اس کو پتہ نہیں۔پس اگر آپ بغیر حکمت کے یہ خیال کریں گے کہ ہر طرف سے کسی آدمی کی اسلام میں دلچسپی پیدا کی جاسکتی ہے تو یہ بڑی بے وقوفی ہے۔ہر ایک کا اپنا الگ الگ رستہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے واقفیت پیدا کرنی پڑے گی۔پہلے اپنے لئے روشنی کا انتظام کرنا ہوگا۔ایسی روشنی جس میں آپ اس کو پوری طرح دیکھ سکیں ، اس کے مزاج کو پوری طرح پڑھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ اس کے رحجانات کیا ہیں، کن باتوں سے یہ بد کتا ہے پھر اس کے مطابق اس سے معاملہ کریں۔پھر حکمت کا ایک اور تقاضا یہ ہے کہ اپنے مزاج اور اپنے رحجان کا بھی جائزہ لیں ، ہر انسان ہر قسم کی تبلیغ نہیں کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اپنے اپنے رنگ میں استعداد میں عطا فرمائی ہیں۔ہر انسان کی دوسرے سے استعدادیں مختلف ہیں۔بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کو خدا نے ایسی شخصیت دے رکھی ہوتی ہے کہ وہ تمام دنیا میں درویشانہ پھریں دنیا ان کو بطور درویش قبول کر لیتی ہے اور وہ بطور درویش ایک کامیاب زندگی گزارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔قادیان میں ایک ایسے ہی صاحب تھے جن کا مزاج خدا نے ایسا بنایا تھا۔ان کے اندر شخصیت کی جاذبیت بھی بخشی تھی۔انہوں نے چولہ پہن لیا تھا اور اس پر مختلف عبارتیں اور دعوت کے کلمات لکھ کر وہ تمام دنیا میں فقیرانہ پھرتے رہے اور جب تک زندہ رہے وہ اسی طرح تبلیغ کرتے رہے۔لیکن ہر شخص یہ کام تو نہیں کر سکتا کیونکہ ہر ایک کی استعداد الگ ہے، اس کا مزاج الگ ہے، اس کی ذمہ داریاں الگ الگ ہیں اس لئے ہر ایک کو اپنی استعداد کو بھی دیکھنا ہوگا۔ہمارے بعض سائیکل سوار ہیں۔مثلاً قریشی محمد حنیف صاحب ہیں، انکی استعداد یہی ہے، وہ اس کے مطابق تبلیغ کر رہے ہیں لیکن یہ کہنا کہ کسی شخص میں تبلیغ کی استطاعت نہیں ہے، یہ غلط ہے۔یہ اللہ تعالیٰ پر الزام ہے اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ ہر شخص کی استعداد چونکہ مختلف ہے اس لئے مقابل کے انسان سے معاملہ بھی الگ الگ کرنا پڑے گا۔اب دیکھ لیجئے ان دونوں کی Combination یعنی ملاپ سے مختلف مسائل سامنے آتے ہیں۔یعنی آپ کے مد مقابل بھی بے انتہا مزاجوں والے ہیں۔ان کے اندر داخلوں کے رستے الگ الگ ہیں انہیں سمجھانے کے طریق بالکل الگ الگ ہیں ہر شخص کی ایک انفرادیت ہے اس کے مطابق اس سے بات