خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد ۲ 108 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء کہ اللہ تعالیٰ یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کے بندے احسن قول کے ساتھ اور احسن عمل کے ساتھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہونگے ۔ اللہ ایک مشترک لفظ ہے جو تمام مذاہب میں ایک قدر مشترک کے طور پر پایا جاتا ہے۔ مشرک مذاہب بھی ایک نہ ایک اللہ کا تصور ضرور رکھتے ہیں اور طرح طرح کے بہانے بنا کر بتوں کو پوجتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جائے تو بالآخر یہی بتاتے ہیں کہ ایک اللہ ضرور ہے اور یہ اس کے مظاہر ہیں یا چھوٹے اللہ ہیں ۔ پس اللہ کی طرف بلانے کا تصور ایک قدر مشترک ہے جو تمام مذاہب میں پائی جاتی ہے لیکن یہاں اس آیت میں اس طرز کو بدل کر اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتا ہے۔ اُدْعُ إلى سَبِيلِ رَبِّكَ کہ اے محمد ! (ﷺ) تو اپنے رب کی طرف بلا ۔ الوس صلى الله صلى الله عروسه اب تعجب کی بات یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا رب کیا دوسروں کے رب سے مختلف تھا ؟ اس میں رب کو آنحضرت ﷺ کی طرف مضاف کیوں کیا گیا۔ اس کی بہت سی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ رب کا تصور جدا جدا ہوتا ہے اور اگر چہ مختلف مذاہب کے نام پر ہر ایک رب کی طرف بلاتا ہے لیکن اس ایک رب یا اللہ کے نام کے نیچے اتنے مختلف وجود نظر آتے ہیں کہ اگر آپ ان کا تجزیہ کریں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مخالف سمتوں کی طرف بلا رہے ہیں اس لئے کہ ہر ایک کا رب کے متعلق اپنا ایک الگ تصور ہے۔ صلى الله عروسة اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے محمد ! (ﷺ) تو اس رب کی طرف بلا جس رب کی طرف تو خود پہنچا اور جس سے تو نے لقا حاصل کی اور جس کو تو نے اپنی قلبی رؤیت سے دیکھا اور جو پوری شان کے ساتھ تجھ پر ظاہر ہوا ، اس کی طرف دنیا کو بلا کیونکہ اس سے پہلے اس خدا کی طرف کبھی کسی بلانے والے نے نہیں بلایا۔ موسی نے بھی بظاہر اسی خدا کی طرف بلایا، عیسی نے بھی بظاہر اسی خدا کی طرف بلایا اور دوسرے بلانے والے بھی بظاہر اسی خدا کی طرف بلاتے رہے لیکن وہ رب جو محمد مصطفیٰ " پر ظاہر ہوا اور اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوا اس رب کے تصور میں اور موسیٰ کے رب کے تصور میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بظاہر ذات ایک ہے لیکن جلوہ گری مختلف ہے۔ چنانچہ طور سینا کا جو واقعہ گزرا ہے صلى الله علی جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر ملتا ہے اس میں یہی اشارہ تھا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا رب اس شان کا رب تھا کہ موسی" اس کی تجلی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام