خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 109

خطبات طاہر جلد ۲ 109 خطبه جمعه ۲۵ / فروری ۱۹۸۳ء کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے۔خدا بار بار اس سے کلام کرتا رہا لیکن جب خدا موسی“ پر ظاہر ہوا تو وہ اپنی شان میں اور اپنے جلال میں اور اپنے جمال میں اس سے مختلف تھا جو حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ظاہر ہوتا تھا۔چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ خبر دی گئی کہ ایک عظیم الشان نبی آنے والا ہے جسے میں ایک خاص جلوہ دکھاؤں گا تو وہ بضد ہو گئے اور اصرار کرنے لگے کہ اے خدا! مجھے بھی وہ چہرہ دکھا۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وہ آیت نازل ہوئی کہ میں پہاڑ پر وہ تجلی ظاہر کرتا ہوں اگر پہاڑ اس تجلی کا متحمل ہو جائے تو پھر میں تجھے بھی دکھا دوں گا۔یہ ایک کشفی نظارہ تھا۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے یعنی وہ بجلی ابھی ان پر نازل نہیں ہوئی تھی۔تجلی بظاہر پہاڑ پر نازل ہوئی تھی جس کا پہاڑ تو کیا متحمل ہوسکتا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام جو پاس کھڑے تھے وہ بھی بے ہوش ہو گئے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ ایک کشفی نظارہ تھا۔حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات پہاڑوں پر نازل نہیں ہوا کرتیں خصوصاً وہ خدا جو آنحضور ﷺ پر روشن ہوا وہ تو ایک کامل باشعور ہستی پر ہی روشن ہوسکتا تھا اس لئے پہاڑ بھی ایک تمثیل ہے جیسا کہ قرآن کریم کی بعض دوسری آیات میں واضح طور پر یہ فرما دیا گیا ہے کہ پہاڑ کا یہ لفظ ہم تمثیل کے طور پر بولتے ہیں۔فرمایا: وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الحشر : ۲۲) تم ظاہرا پہاڑ نہ سمجھ لینا۔مراد یہ ہے کہ لوگ سمجھ سکیں کہ اتنی عظیم الشان وحی ہے کہ گویا اگر پہاڑوں پر نازل ہوتی تو ان کا سینہ بھی پھاڑ دیتی۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ مضمون اس کشف میں سمجھا دیا گیا کہ تم اس لائق نہیں کہ محمدمصطفی ﷺ کا رب تم پر بھی اسی طرح ظاہر ہو جائے۔پس اُدْعُ إِلى سَبِيْلِ رَبَّكَ میں محض اللہ کی طرف بلا نا مراد نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفیٰ پر جس شان سے خدا ظاہر ہوا تھا اس تمام شان کی طرف بنی نوع انسان کو بلا نا مقصود ہے اور وہ خدا ایسا ہے جو رب العالمین ہے۔موسیٰ“ کا خدا تو رب العالمین کے طور پر ظاہر نہیں ہوا تھا وہ تو بنی اسرائیل کے خدا کے طور پر ظاہر ہوا تھا۔ہندوستان میں خدا ظاہر ہوا ، وہ ہندو دھرم کے لئے کرشن کو مظہر بنا کر ظاہر ہوا اور کنفیوشس کا خدا صرف چین کے لوگوں کو بلانے کے لئے تھا اور اسیران میں زرتشت