خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 100
خطبات طاہر جلد ۲ 100 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء ہوتی ہیں، راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرتی ہیں اور دوسرے لوگوں کو دعا کے لئے خط لکھتی ہیں کہ میرا بچہ تباہ ہو رہا ہے دعا کریں نیک بن جائے۔پس صبر سے جو عظیم الشان قوت پیدا ہوتی ہے وہ دعا کی قوت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم محض اپنی باتوں پر اور نیک اعمال پر انحصار نہ کرنا۔جب ان باتوں پر صبر کرو گے پھر بھی تمہیں دکھ دیئے جائیں گے اور صبر لازماً دعاؤں میں ڈھلے گا اور وہ دعائیں عظیم الشان نتیجہ پیدا کریں گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ جو فرمایا ہے کہ عرب کے بیابان میں جو ایک ماجرا گز را کہ صدیوں کے مردے زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے الہی رنگ پکڑ گئے جانتے ہو وہ کیا تھا وہ ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں۔( برکات الدعاروحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۱۱) ایسی دعائیں صبر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔بے صبر تو اپنے دل کی بات غصہ کے ذریعہ نکال لیتا ہے، اس کے آنسو کہاں سے نکلیں گے جو گالی کے ذریعہ جواب دے کر اپنا دل ٹھنڈا کر بیٹھا ہو، سامنے بات کرنے سے ڈرتا ہو تو پیچھے گھر میں آکر ہزار بڑ بڑ کرے کہ یہ بکواس اس نے کی، یہ کیا اور وہ کیا ، تو اس بیچارے کو کہاں سے توفیق ملانی ہے کہ رات کو اٹھ کر روئے۔لیکن جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ صرف خدا کی خاطر مجھے مار پڑی ہے،صرف خدا کی خاطر مجھے تکلیف دی گئی ہے اور خاموش رہتا ہے اور اپنی توجہ کو اپنے رب کی طرف پھیرتا ہے کہ اے اللہ ! میں تیری خاطر مارا گیا، میں تیری خاطر ذلیل ہوا مگر میں صبر کرتا ہوں ، تب اندر ہی اندر اس کا دل ایسا گھلنے لگتا ہے کہ پھر جب وہ رات کو اٹھتا ہے تو اس کے آنسو بے اختیار نکلتے ہیں۔ایسی حالت میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی آواز ایسے درد کے ساتھ اور ایسی ہوک کے ساتھ اٹھتی ہے کہ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ وہ بارگاہ الہی میں مقبول نہ ہو۔پس تبلیغ کا صبر سے گہرا تعلق ہے اور صبر بھی وہ صبر جو دعا پر منتج ہو جائے۔جو دردناک دعاؤں میں تبدیل ہو جائے۔تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ تمہیں یوں محسوس ہوگا جیسے اچانک انقلاب آگیا ہے تم حیران رہ جاؤ گے کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا کل تک تو گالیاں دینے والے تھے آج ان کو کیا ہو گیا اور یہ واقعات پہلے بھی رونما ہوئے ہیں آج بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں لیکن ان کی اعلیٰ مثال کے طور پر مضمون کو مختصر کرتے ہوئے آخر پر قرآن کریم ایک ایسی بات بتاتا ہے جو ساری باتوں کی جامع ہے ار تمام نصیحتوں کا نبع ور سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يُلَقْهَا