خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد ۲ 101 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَائِلَقْهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِیم کہ تم میں سے جو بھی صبر کرے گا وہ بھی یہی پھل پائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسا ذُو حَظِّ عَظِیمٍ کو یہ نتیجہ ملا ویسا کسی کو نہیں مل سکتا۔یہ ذُو حَظِّ عَظِیم کون ہے؟ حضرت محمد مصطفی علی لاتے ہیں کیونکہ آپ نے سب سے زیادہ صبر کا نمونہ دکھایا ہے ذُو حَظِّ عَظِیمٍ اس شخص کو کہتے ہیں جس نے صبر میں سب سے زیادہ حصہ پایا ہو۔عام صبر کرنے والے بھی ہیں ان کو بھی خدا پھل سے محروم نہیں رکھے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم سیکھنا چاہتے ہو کہ صبر ہوتا کیا ہے تبلیغ کس طرح کی جاتی ہے، دعوت الی اللہ کیا ہوتی ہے عمل صالح کیا ہوتا ہے اور بدی کو حسن میں تبدیل کرنے کا مضمون کیا ہے؟ تو خلاصہ کلام یہ کہ ذُو حَظِ عَظِيمٍ یعنی محمد مصطفی ماله کو دیکھ لو۔وہ صرف صبر میں ذُو حَظِّ عَظِیمٍ نہیں ہیں بلکہ اس مضمون کی ہر شاخ میں ذُو حَظِّ عَظِيمٍ ہیں۔داعی الی اللہ کے لحاظ سے بھی دعوت کا سب سے بڑا حصہ آپ کو عطا کیا گیا عمل صالح کے لحاظ سے بھی حضرت محمد مصطفی اللہ ہی ذُو حَظِّ عَظِيمٍ بنتے ہیں ، اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے مضمون کے لحاظ سے بھی حضرت محمد مصطفی ملالہ ذُو حَظِّ عَظِيمٍ بنتے ہیں اور پھر وہ پھل پانے کے لحاظ سے کہ اچانک دشمن دوستوں میں تبدیل ہوئے اس لحاظ سے بھی آپ ذُو حَظِّ عَظِیمٍ بنتے ہیں اور صبر کے اعلیٰ مظاہروں کے لحاظ سے بھی آپ ذُو حَظِّ عَظِیمٍ بنتے ہیں۔پس سیرت طیبہ و تبلیغ کا طریق سکھاتی ہے اس طرف انگلی اٹھا کر بات ختم کر دی۔کہتے ہیں: ع نہ دے نامہ کو اتنا طول غالب مختصر لکھ دے (دیوان غالب) وہی مضمون ہے۔جس طرح شاعر تنگ آکر کہتا ہے چلو میں بات ختم کروں، ایک ہی فقرہ میں ساری بات کہہ دوں۔قرآن کریم نے بھی بہت ہی پیارے انداز میں ایک لفظ میں ساری بات ختم کر دی، ذُو حَظِّ عَظِيمٍ کہہ کر سارا معاملہ واضح اور روشن کر دیا۔آنحضرت ﷺ کا طریق یہ تھا کہ ہمیشہ تبلیغ کے نتیجہ میں جب آپ کو دکھ دیئے گئے تو نہ آپ تبلیغ سے باز آئے نہ دیکھ دینے والوں کو بددعائیں دیں ، نہ ان سے خوف کھایا اور نہ کسی پہلو سے بھی اپنا پیغام پہنچانے سے باز آئے۔باوجود اس کے کہ سوسائٹی نے آپ کا انکار کیا، آپ سوسائٹی میں حسن پیدا کرتے چلے گئے اور یہ عمل جاری رہا یہاں تک کہ آپ کے ساتھ اور صبر والے شامل