خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 99

خطبات طاہر جلد ۲ 99 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء عجیب بات ہے کہ صبر کرنے والے کی دعائیں اور کوششیں جب پھل لاتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے اچانک پھل لگ گیا ہے۔اس تاثر کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم نے فرمایا فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ دوسرے اذَا الَّذِی میں ایک اور مضمون بھی ہے۔اذَا الَّذِی اچانک پن کے علاوہ ایک غیر معمولی واقعہ کی تحسین کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کہ دیکھو دیکھو کیسا شاندار نتیجہ نکلنے والا ہے۔ان معنوں میں بھی اذا الذی استعمال ہوتا ہے۔تو دوسرے معنی اس کے یہ بنیں گے کہ دیکھو ان کوششوں کا کیسا عظیم الشان نتیجہ نکلا ہے۔ہم جو تمہیں کہتے تھے کہ یوں کرو تو یونہی نہیں کہتے تھے یہ حیرت انگیز انقلاب بر پا کر نیوالا مضمون تھا۔فرمایا فَإِذَا الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ دیکھنا کتنا عظیم الشان انقلاب بر پا ہوگیا کہ تمہارے خون کے دشمن جاں نثار دوست بن گئے۔میں اس وقت چند ایک باتیں صبر کے مضمون میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ صبر دونوں جگہ ہے یعنی قول میں بھی اور عمل میں بھی۔جو بات کہنے کی ہے وہ کہتے چلے جانا ہے۔یہ ہے قول کا صبر اور جو حسن عمل ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹنا۔آزمائش جتنی مرضی سخت ہوتی چلی جائے تم نے اپنے اعمال کے حسن کو بدی میں نہیں تبدیل ہونے دینا۔یہ دو قسم کے صبر تمہیں اختیار کرنے پڑیں گے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا چند اشارے کرتے ہوئے میں آگے چلتا ہوں۔اس مضمون کو جب آپ کھولیں گے تو بہت سی کام کی باتیں اور بڑی حکمت کی باتیں آپ کے ہاتھ میں آئیں گی۔دوسرے صبر کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ تم تو محبت کر رہے ہو گے وہ تمہیں دکھ دے رہے ہوں گے اور اس دکھ کے نتیجہ میں تمہارے اندر کوئی ایسی قوت پیدا ہونی چاہئے جس سے تمہیں وہ غلبہ نصیب ہوگا جس کی طرف ہم تمہیں بلا رہے ہیں یا جس کا ہم تم سے وعدہ کر رہے ہیں۔صبر کس قوت میں ڈھلا کرتا ہے؟ یہ اصل سوال ہے۔اگر صبر سچا ہے اور وہ شخص اپنے دعویٰ میں سچا ہو کہ وہ اپنے نفس کی خاطر کسی کی بھلائی نہیں کر رہا بلکہ دوسرے کی بھلائی کی خاطر وہ کر رہا ہے اور جس کے لئے کوئی کام کر رہا ہو اس کے لئے رحم کا اور شفقت کا اور محبت کا حقیقی تعلق ہوتو پھر جب وہ دوسرا انکار کرتا ہے تو صبر ہمیشہ اس کے لئے دعا میں تبدیل ہوا کرتا ہے، غصہ میں تبدیل نہیں ہوا کرتا۔ماں جب بیٹے کو نصیحت کرتی ہے اور وہ ضد کرتا ہے اور کہنا نہیں مانتا تو کوئی جاہل ماں ہوگی جو اس پر لعنت ڈالنا شروع کر دے ورنہ ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ مائیں پھر روتی ہیں، اپنی جان ہلکان کر رہی