خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 385
خطبات طاہر جلد ۲ 385 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۳ء اور پھر فرمایا: پاکستان کی ناگفتہ بہ حالات اور جماعت احمدیہ کی حب الوطنی ( خطبه جمعه فرموده ۲۲ / جولائی ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل قرآنی آیت تلاوت کی فرمائی: تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص:۸۴) بعض مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں بعض لوگ فتنہ و فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں اور گویا ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ادھار کھائے بیٹھے کا محاورہ بھی بڑا دلچسپ ہے، جیسے کوئی کسی سے پیسے لے چکا ہو اور یہ کہے کہ جب تک میں تمہارا مقصد پورا نہ کر دوں اور یہ فساد برپا نہ کر دوں مجھ پر یہ ادھار ہے۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کن معنوں میں یہ محاورہ ان فساد پھیلانے والوں پر صادق آتا ہے لیکن جہاں تک علامتوں کا تعلق ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ وہ لوگ بہانے ڈھونڈ رہے ہیں کہ کسی طرح ہمارے عزیز ، پیارے اور محبوب وطن میں فساد برپا کر دیں۔اس کے برعکس جماعت احمدیہ کے افراد کیا مرد اور کیا عورتیں سب نے یہ تہیہ کر رکھا ہے اور یہ عزم صمیم کر رکھا ہے کہ ہم نے یہ فساد برپا نہیں ہونے دینا۔