خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 384

خطبات طاہر جلد ۲ 384 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۲ء لئے کنجوس بن چکا ہو وہ اللہ سے مانگنے کا حق ہی نہیں رکھتا۔پس ایسے بندے جو اُولُوا الْأَلْبَابِ ہوتے ہیں وہ دعائیں کرنے سے پہلے پوری ذہنی تیاری کر چکے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! جو کچھ تو ہمیں دے گا ہم اکیلے نہیں کھائیں گے بلکہ ہم آگے تیرے بندوں کو بھی پہنچائیں گے اور تیری عطا میں ہم سارے حصہ رسدی شریک ہوں گے اس لئے اے خدا! میری خاطر نہیں تو اپنے دوسرے بندوں کی خاطر ہی عطا فرما اور مجھے اس کا ذریعہ بنادے تا کہ مجھے بھی لطف آئے کہ میں آگے لوگوں میں تقسیم کر رہا ہوں۔چنانچہ انبیاء کی فطرت میں یہ بات بدرجہ اولیٰ موجود ہوتی ہے۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے آسمان سے اتر تا ہوا ایک نان دکھایا اور فرمایا یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔( تذکرہ صفحہ ۱۴) یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اپنے ساتھ کے درویشوں کو دو بلکہ فرمایا ہم تیری فطرت کو جانتے ہیں تو کوئی فیض اپنے لئے اکیلا رکھ ہی نہیں سکتا لازما جو نعمتیں ہم تجھے عطا کرتے ہیں ان کو تو آگے بانٹ دیتا ہے اس لئے ہم پہلے ہی ان لوگوں کو شامل کر کے کہہ رہے ہیں کہ اے میرے بندے! یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔پس یہ سلیقہ بھی عبادتیں ہی سکھاتی ہیں کہ انسان اپنی بھلائیاں دوسروں میں تقسیم کرے اور اس تقسیم میں لذت پائے ، دکھ محسوس نہ کرے بلکہ لطف اٹھائے اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ یہ رمضان جس نے ۲۹ دن بعض لوگوں کو عبادتیں سکھائیں اور جو پہلے ہی عبادت گزار بندے تھے ان کی عبادتوں میں اضافہ کیا، وہ ہمارے لئے یہ دائمی سبق پیچھے چھوڑ جائے گا کہ ہم اس یقین پر قائم رہیں کہ عبادت کے بغیر ہماری کوئی زندگی نہیں ہے، عبادت کے بغیر کسی مصیبت سے محفوظ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے، عبادت کے بغیر ہم خدا کے وہ بندے نہیں بن سکتے جو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور جیسا کہ ان آیات میں یہ ذکر بھی کیا گیا ہے عبادت کے بغیر ہم خدا کی طرف سے آنے والے عذابوں سے مامون و محفوظ نہیں رہ سکتے اس لئے اس سبق کو لے کر اپنی زندگی میں اپنا ئیں اور اسے اپنے اعمال میں داخل کریں اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کتنے بے انتہا فضل کرنے والا خدا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۳۰ / جولائی ۱۹۸۳ء)