خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 386

خطبات طاہر جلد ۲ 386 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۳ء پس یہ بڑا دلچسپ مقابلہ ہے۔لوگ جتنا آپ کو تنگ کریں، دکھ دیں اور کوشش کریں کہ آپ کو فساد کا بہانہ بنایا جائے اتنا ہی زیادہ صبر اور عزم کا نمونہ دکھانے کی ضرورت ہے اور بیدار مغزی اور بڑی ذہانت کے ساتھ اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ ملکی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اس موقع پر ، تاریخ کے اس سنگم میں جس میں اس وقت ہم کھڑے ہیں کسی قیمت پر بھی فسادنہ ہونے دیا جائے۔ہمارے ملک کی یہ عجیب تاریخ ہے اور بڑی بدقسمتی ہے کہ جب بھی بیرونی خطرات نمایاں ہوتے ہیں بعض مخصوص طبقات ملک میں لازماً فساد کی کوشش کرتے ہیں۔وہ مشہور ومعروف ہیں اور ان کی تاریخ انمٹ حقائق کے ساتھ لکھی گئی ہے اور سب پہچانے والے انہیں پہچانتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ دھو کہ کھانے والے پھر بھی دھو کہ کھا جاتے ہیں۔جب بھی اس ملک میں اندرونی فساد برپا ہوئے ہیں ہمیشہ کوئی بیرونی خطرہ لازماً سر پر منڈلا رہا تھا اور اندرونی فسادات نے ان خطرات کو تقویت دی اس لئے ہر محب وطن احمدی کا فرض ہے کہ وہ کسی قیمت پر بھی ملک میں فساد نہ ہونے دے۔محب وطن سے میری مراد نہ صرف پاکستان بلکہ تمام دنیا کے احمدی ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر احمدی اپنے اپنے ملک اور اپنے اپنے وطن کا محب ہے اور یہ ہماری تعلیم ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے کہ آج دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ سچائی اور وفا کے ساتھ اگر کوئی اپنے وطن سے محبت کرتا ہے اور وطن کی محبت جس کا جزوایمان بن گئی ہے تو وہ جماعت احمدیہ کے افراد ہیں۔اگر ہم زیادہ وسیع نظر سے دیکھیں تو ساری دنیا ہی اس وقت فسادات کا شکار ہے اور تمام دنیا میں بعض تحر یہی طاقتیں جو بڑے عظیم ملکوں سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور نسبتاً چھوٹے ملکوں سے بھی تعلق رکھتی ہیں وہ پوری طرح سرگرم عمل ہیں کہ کسی طرح فساد برپا ہو۔پس بین الاقوامی جماعت کے افراد کا اس کے مقابل پر یہ فرض ہے کہ اپنے اپنے وطن میں ہر وہ ذریعہ استعمال کریں جس کے نتیجہ میں فساد دب جائے اور فساد کا کوئی موقع پیدا نہ ہولیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار نہیں کہ ہماری جماعت کمزور ہے ، محدود طاقت اور محدود اثر رکھتی ہے اس لئے ضروری نہیں کہ ہماری امن کی ہر کوشش کامیاب ہو۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ احمدی صبر کا انتہا سے زیادہ نمونہ دکھا ئیں لیکن اس بات کی ضمانت پھر بھی نہیں کہ دنیا میں فساد برپا نہ ہو کیونکہ جو لوگ فساد پر تل جاتے ہیں وہ عجیب وغریب بہانے ڈھونڈتے ہیں۔کوئی معقول بہا نہ نہ ملے تو نا معقول بہانہ تلاش کر لیتے ہیں۔