خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 172

خطبات طاہر جلد ۲ 172 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء ایک اور پہلو ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے تم سب کچھ خدا کے ہاتھ پر بیچ ڈالو یعنی معمولی قرضہ حسنہ نہیں بلکہ اگر ممکن ہو سکے تو اپنے سارے اموال اور ساری زندگیاں اللہ کے ہاتھ پر بیچ ڈالو۔اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا اسلام کا یہ مالی نظام دنیا میں پنپ سکتا ہے؟ آخر وہ لوگ کس طرح زندہ رہیں گے جن کو اموال کے بدلہ میں ، اموال کی قربانی کے نتیجہ میں مادی نقطہ نگاہ سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آ رہا۔اس حصہ پر غور کرنے سے قبل قرآن کریم کا ایک اعلان میں آپ کو سنا دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہ پر اس مضمون پر گفتگو فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ سود کا روپیہ کھاتے ہیں اور سودی مالی نظام میں پرورش پا رہے ہیں ان کو یہ وہم ہے کہ ان کا روپیہ بڑھ رہا ہے۔فرماتا ہے: فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللهِ (الروم :۴۰) کیونکہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے ( یہاں مراد نظام خداوندی ہے ) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو اقتصادی نظام جاری کیا ہوا ہے اور جو لازماً غالب آئے گا اس نظام کی رو سے یہ روپیہ بڑھتا نہیں بلکہ حقیقتا کم ہوتا ہے اور جس روپیہ کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ بظاہر کم ہو رہا ہے یعنی زکوۃ میں دیتے ہو اور غریبوں کی خدمت میں دیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر چندہ بھی دیتے ہو، فرماتا ہے وہ اللہ کے نزدیک بڑھ رہا ہے۔پس معلوم یہ ہوا کہ کسی ایسی باشعور اور گہری نظر رکھنے والی ہستی کا یہ نظام ہے جو جانتا ہے کہ بظاہر یہ اعتراض پیدا ہونگے ، لوگ یہ سمجھیں گے اور دنیا کے بیوقوف یہ دعوی کریں گے کہ یہ مالی نظام تو دنیا میں پنپ نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہی پہنچے گا اور تمہارا نہیں پینے گا۔اور پھر فرماتا ہے اگر تم سودی کاروبار سے باز نہیں آؤ گے تو فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ پھر تم خدا اور اس کے نظام سے اور اس کے رسول کے نظام سے ٹکر لینے کے لئے تیار ہو جاؤ۔پھر تمہارے مقدر میں جنگ لکھی جائے گی اور تم اس جنگ سے بچ نہیں سکتے۔اسلام کا یہ حیرت انگیز دعویٰ ہے جو دنیا کے اقتصادی نظریات کو بالکل رد کر کے پھینک دیتا ہے اور اس کے بالمقابل ایک ایسا نظریہ پیش کرتا ہے جس کی بظا ہر سمجھ نہیں آتی کہ اسلام کس قسم کا نظام چلانا چاہتا ہے۔اس سلسلہ میں فی الحال چند امور کی طرف