خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 863 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 863

خطبات طاہر جلد 17 863 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء باتوں کو اللہ تعالیٰ تو نہیں بھولتا، بندہ تو بھلا دیتا ہے اور شکر ادا کرنے والوں میں سب سے زیادہ شکر اللہ ادا کیا کرتا ہے اور اس کے شکر ادا کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جتنا احسان کرتا ہے اس کو اور بھی بڑھا دیتا ہے اور اس دوڑ میں کوئی اللہ کو شکست نہیں دے سکتا۔جتنا مرضی آپ کوشش کر کے دیکھ لیں کوئی چیز تو اللہ کو دے نہیں سکتے سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے۔اس کا شکر ادا کر سکتے ہیں مگر جتنا شکر ادا کریں گے وہ اور دیتا چلا جائے گا۔اب آنحضرت صلی شما کہ تم سے زیادہ تو شکر ادا کرنے والا کوئی دُنیا میں پیدا نہ ہوا، نہ ہو سکتا ہے۔آپ صلی ا ہی تم نے اللہ کے شکر ادا کرنے کے لئے ساری زندگی وقف کر دی اور اللہ تعالیٰ آپ کے مقام بڑھاتا چلا گیا ناممکن تھا کہ اللہ کا شکر ادا کر کے اللہ کو آپ ساینا یہ ہم تھکا دیتے اور ناممکن تھا کہ خود بھی تھک جاتے کیونکہ زندگی بھر آپ صلی نا ہی ہم تھکے نہیں شکر ادا کرتے کرتے اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جزا جو اس دنیا میں عطا ہوئی تھی، جس حد تک ہونی تھی اس کے علاوہ اللہ نے اس کو لا متنا ہی کر دیا اگلی دُنیا کے لئے۔تو آئندہ دُنیا میں جو خدا تعالیٰ آنحضرت صلی یہ تم کو بلند سے بلند تر درجات عطا فرماتا چلا جائے گا یہ اس شکر کا ہی نتیجہ ہیں جو زندگی بھر آپ صلی شمالی تم نے ادا کیا۔اب وہاں اللہ تعالیٰ کا شکر رسول اللہ صل للہ یہ تم کیسے ادا فرما ئیں گے یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔یہ وہ ایسی دوڑ ہے جس میں شکر ادا کرنے والے نے ہارنا ہی ہارنا ہے اور اللہ نے جیتنا ہی جیتنا ہے۔تو اس پہلو سے میں نے یہ گزارش کی تھی کہ اب ہمارا شکر یہ ہے کہ ان سب نو بائعین کو دوبارہ اسی راہ میں جھونک دیں اور استعمال کریں۔اس احسان کا بدلہ اتارا تو نہیں جاسکتا مگر شکر ادا کرنے کے طور پر کہ اللہ تو نے یہ نعمت ہمیں دی تھی اب یہ نعمت ہم تیری راہ میں خرچ کر رہے ہیں۔خوشی کی بات یہ ہے کہ قادیان سے جتنی اطلاعیں ملی ہیں ان کی رو سے یہ نو مبائعین جو سیدھے سادے بندے ہیں زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں بلکہ کثرت ایسی ہے جو تعلیم یافتہ ہے ہی نہیں ، وہ اس پیغام کو سمجھ گئے ہیں۔میں حیران رہ گیا کہ دیکھو اللہ نے کیسی ان کو فراست عطا فرمائی ہے کہ قادیان سے جتنی بھی رپورٹیں مل رہی ہیں اس میں اس بات کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے کہ سارے باتیں کرتے ہیں آپس میں ، ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہم اس بات کو خوب سمجھ گئے ہیں، ہم شکر گزار بنتے ہیں اور بنیں گے اور جماعت نے جو ہم سے توقع کی ہے اس توقع کے مطابق ایسا شکر ادا کریں گے کہ ہندوستان کے کنارے گونج اٹھیں گے چنانچہ اب وہ یہ ارادے لے کر واپس گئے ہیں۔تو ہم سے تو یہ وعدہ ابھی سے پورا ہو گیا۔