خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 864
خطبات طاہر جلد 17 864 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ - (ابراهیم : 8) أَزِيدَنَّكُمْ میں ان کے معیار کے بڑھنے کا بھی ذکر ہے کہ زنا کے معنی زیادہ کرنا ہے اور جب خدا شکر کے نتیجے میں زیادہ کرتا ہے تو اچھی باتیں زائد کیا کرتا ہے بُری باتیں زائد نہیں کیا کرتا۔تو جس حال میں یہ لوگ آئے تھے اس سے بہت بہتر حال میں لوٹے ہیں یہ بھی آزیدن کا وہ وعدہ ہے جو پورا ہو ہی گیا اور اس کے بعد جو انہوں نے بڑھنا ہے اور ہندوستان میں پھیلنا ہے یہ اس کے بعد کی باتیں ہیں۔تو وہی بات جو بارہا آپ کے سامنے بیان کی گئی ہے اور بیان کرتے ہوئے میں کبھی جھکتا نہیں وہ ز8 والی بات ہے۔ناممکن ہے کہ آپ اللہ کو ہرا سکیں اس معاملہ میں جب کہ انسان تو انسان کو بھی نہیں ہراسکتا اس معاملہ میں۔وہ بادشاہ کا قصہ آپ نے بار ہا سنا ہو گا لیکن نئی نسلیں بھی آتی رہتی ہیں اور یہ نو مبائعین بھی ضرور سن رہے ہونگے۔ان سب کے لئے سارے ہندوستان میں انٹیناز لگے ہوئے ہیں اور یہ بات کو سنتے ہیں اور بڑی توجہ سے دیکھتے ہیں تو ان کے علم میں اضافہ کے لئے یا ان کے لطف میں اضافہ کے لئے میں دوبارہ پھر یہ بیان کر دیتا ہوں۔ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو یہ ہدایت کر رکھی تھی کہ جب بھی چلو اپنے ساتھ اشرفیوں کی تھیلیاں لے کے چلا کرو کیونکہ جب کوئی چیز مجھے بہت پسند آئے اور میرے منہ سے زہ نکل جائے کہ واہ واہ کیا بات ہے تم فوراً ایک تفصیلی اس کو دے دینا جس کے متعلق میں زنا کہوں۔اسی طرح وہ بادشاہ بھیس بدل کر سفر کیا کرتا تھا کیونکہ وہ چاہتا نہیں تھا کہ لوگوں کو پتا لگے کہ یہ بادشاہ ہے یا اسے مجھ سے کوئی توقع ہے عام سادہ باتوں میں کوئی اچھی بات کر دیں تو پھر میں زِن کہوں۔ایک بوڑھا کسان درخت لگا رہا تھا، اور درخت لگا رہا تھا کھجور کے، اور تھا اتنا بوڑھا کہ بظاہر حالات اس کا اپنے لگائے ہوئے کھجوروں کا پھل کھانا ممکن نہیں تھا کیونکہ کھجور آٹھ نو سال میں عام طور پر پھل دیتی ہے اب جلدی پھل دینے والی بھی ایجاد ہو گئی ہیں مگر عموماً آٹھ نو سال کے بعد پھل دیا کرتی ہے۔تو اگر وہ نوے سال کا ہو جس طرح کہ بیان کیا جاتا ہے کہ بہت ہی بوڑھا تھا تو لازماً بادشاہ کو یہ خیال گزرا ہوگا کہ یہ کیا فضول کام کر رہا ہے ، پھل تو کھا نہیں سکے گا اپنی محنت کا۔تو اس نے اس بڑھے سے کہا کہ دیکھو تم یہ کام کر رہے ہو جس کا پھل تم کھا نہیں سکو گے، کیا فائدہ؟ اس نے کہا ہمارے باپ دادے بڑھے ہوا کرتے تھے انہوں نے جو کھجور میں لگائی تھیں ان کا پھل میں کھا نہیں رہا؟ کیا میں ایسا ناشکرا ہو جاؤں کہ ان کے احسان کا بدلہ اتارنے کی کوشش نہ کروں۔یہ احسان کا بدلہ ان تک تو