خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 85

خطبات طاہر جلد 17 85 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء پر کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔اِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوا مبینا میرے بندوں کو بتادے یعنی یاد کرا دے کہ شیطان تو میرے بندوں کا کھلا کھلا دشمن ہے۔اتنی تنبیہات کے باوجود پھر اس کی باتوں میں آجائیں گے۔یہ بات کی جو بات چلی تھی کہ بہت اچھی بات کیا کریں۔اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں جہاں یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔فرماتے ہیں: ہر ایک بات کہنے سے پہلے سوچ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔“ یہ ایک عمدہ طریق ہے جس پر عمل کرنے سے آپ کو کچھ غور کا موقع مل جائے گا۔انسان جب بھی اپنے مطلب کے خلاف کوئی واقعہ دیکھتا ہے یا اپنی خواہش کے خلاف کسی اپنے عزیز کو چلتے ہوئے دیکھتا ہے بسا اوقات وہ عزیز اس کی خواہش کے خلاف چل رہا ہوتا ہے مگر راہ حق کے خلاف نہیں چل رہا ہوتا۔یہ بار یک باتیں ہیں جو آپ اپنی زندگی پر غور کریں تو آپ کو دکھائی دینے لگ جائیں گی۔اگر اپنی انا کی خاطر بات کرتا ہے تو اپنے بیٹے سے کرے یا بیٹی سے، بیوی سے کرے یا بیوی اپنے خاوند سے کرے ہمیشہ یہ بات غلط ہوگی اچھی نہیں ہوگی۔چنانچہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ایک حل یہ بیان فرمایا ہے کہ عادت ڈالو کہ بات کرنے سے پہلے ذرا ٹھہر جایا کرو۔روز مرہ کی عام گفتگو مراد نہیں ہے۔ورنہ ہر کلمہ پر ٹھہر نا پڑے گا۔عام گفتگو، دیکھ بھال، آج آپ نے کیا کیا، آج میں نے کیا کیا ، اس قسم کی چیزیں تو گھروں میں چلتی رہتی ہیں مراد ہے کہ جب کوئی ایسی بات کہنے لگو جس میں تمہارے نفس نے جوش پیدا کر دیا ہے اس وقت ذرا ٹھہر جایا کرو۔66 سوچ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی اجازت اس کے کہنے میں کہاں تک ہے۔“ یعنی ایسے معاملات کو اللہ کی طرف لوٹا ؤ اور اپنے ذہن میں سوچو کہ میں یہ جو بات کہنے لگا ہوں یہ اللہ کو پسند آئے گی ، اس بات کے اندر کوئی فریب تو نہیں آگیا اور اگر ہلکا سا بھی فریب ہو تو وہ حق کے خلاف ہوگی اور غرور یعنی سب سے بڑے دھو کے باز کو پسند آئے گی۔تو باتوں کو سوچ کے ان کو پہچاننا، یہ ایک ایسا آسان طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرما دیا ہے یعنی جو آسان بھی ہے مشکل بھی۔مشکل اس لئے کہ اس پر عمل کرنا اور ایسی بات سے رک جانا یہ اسی کے لئے مقدر ہوسکتا ہے جو صاحب توفیق ہو، جس کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے اس لئے ہر موقع پر میں دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں