خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 84
خطبات طاہر جلد 17 84 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء اللہ حق ہے اور اللہ کا بیان فرمودہ سارا تذکرہ حق ہے۔ماضی کا تذکرہ بھی حق ہے اور مستقبل کا تذکرہ بھی حق ہے اور جو لوگ اس حق کو چھوڑ دیتے ہیں ان کا دعویٰ کہ وہ مذہبی راہنما ہیں یا اپنی قوم کی ہدایت کے لئے آئے ہیں سراسر ، سر سے پاؤں تک جھوٹ ہے اور اس میں وہ پہچانے جاسکتے ہیں۔اس لئے شیطان جو دھوکہ دیتا ہے یہ نہیں کہ پہچانا نہیں جا سکتا اگر انسان انصاف پر قائم ہوجائے اور حق کو پکڑ لے تو اس کو روز مرہ کی زندگی میں اپنے علماء میں سے سخت دھو کے باز اور حق کو چھپانے والے دکھائی دینے لگ جائیں گے۔جب بھی ان کے مقصد، ان کے مطلب کے خلاف بات ہو وہ اس خلاف بات کی مخالفت کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ بات حق ہو اور جب بھی ان کے مقصد کے حق میں کوئی بات کرے جس کو وہ اپنے مقصد کے حق میں سمجھتے ہوں اس پر راضی ہو جاتے ہیں خواہ کتنی بڑی جھوٹی اور شیطانی بات ہو اس کو سینہ سے لگالیتے ہیں۔یہ ان کی کھلی کھلی پہچان ہے۔میں صرف پاکستان کا تذکرہ نہیں کر رہا، بنگلہ دیش میں بھی ، ہندوستان میں بھی ، دوسرے سب ملکوں میں سارے مذہبی راہنما سوائے احمدیت کے اس شکل میں آپ کے سامنے کھل کر ظاہر ہو جاتے ہیں کہ اپنے مقاصد ، اپنی خواہشات، اپنی نفسانیت کی پیروی کریں گے۔جہاں اس کے مخالف کوئی بات ہوئی اس کو چھوڑ دیں گے اور بنی نوع انسان کی بھلائی ان کے پیش نظر ہے ہی نہیں اپنی بڑائی ان کے پیش نظر ہے اور وہی بڑائی ہے جو ان کی راہنمائی کرتی ہے۔وہی بڑائی ہے جس کو شیطان کی انا کہا جاتا ہے۔وہی بڑائی ہے جس سے انسان کی بے راہ روی کا آغاز ہوا ہے۔پس ان ساری باتوں کو کھول کھول کر آپ کے سامنے بیان کرنا میرا فرض تھا، فرض ہے اور فرض رہے گا اور وقتاً فوقتاً میں اس مضمون کو پھر اٹھاتا رہوں گا۔ایک اور قرآن کریم کی تنبیہہ سورۃ بنی اسرائیل آیت 54 میں یوں ہے: وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ میرے بندوں سے کہہ دے کہ اچھی بات کیا کریں اور صرف اچھی بات نہیں جو سب سے اچھی بات ہو۔اپنا شیوہ بنالیں کہ ایسی بات کریں کہ اس سے اچھی بات ہو نہ سکتی ہو یعنی بہترین بات کیا کریں۔اِنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُم کیونکہ شیطان تو اس انتظار میں بیٹھا ہے کہ ان کے درمیان تفریق پیدا کر دے اور ہر تفریق بری بات سے پیدا ہوتی ہے۔اچھی بات سے کبھی بھی تفریق نہیں ہوتی۔ساری جماعتوں میں جہاں بھی جھگڑے چلے ہیں ان پر میں غور کر کے، اپنی نظر میں رکھ کر آپ کو بتا رہا ہوں کہ سارے جھگڑے بری باتوں سے ہوتے ہیں۔اچھی بات کہنے