خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 889
خطبات طاہر جلد 17 889 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء تمہارے کام آ سکتی ہیں۔بوڑھے ماں باپ تو مر بھی جاتے ہیں اور آئندہ تمہاری ضرورتیں پھر کون پوری کرے گا لیکن اللہ کوتو ہمیشہ کی زندگی ہے اور اس نے تمہارے لئے وہ ضرورتیں پیدا بھی کر دی ہیں اور تمہیں پھر وہ دکھاتا بھی چلا جاتا ہے، نشان دہی کرتا چلا جاتا ہے۔اچھا اب اور آگے قدم بڑھاؤ تو یہ لے لو۔اس سے آگے قدم بڑھاؤ تو یہ بھی موجود ہے۔تو مٹیریل کبھی بھی انسان کی ضرورت سے پیچھے نہیں رہ سکتا، مسلسل خدا کی تقدیر اسے آگے بڑھاتی چلی جاتی ہے۔تو فرمایا پھر ايتاى ذى القربی تو اس سے ہونی چاہئے یعنی جو قریب ترین ہے وہ یہ ہے۔قریبیوں کے لئے جو خرچ کیا جاتا ہے اس طرح اللہ کے لئے خرچ کرو۔اب مضمون کو دیکھیں کیسا پلٹا دیا ہے آپ نے۔وہ تمہارے لئے یہ کرتا ہے تو تم بھی جواباً ویسا ہی معاملہ اللہ سے کرو۔” نہ مراتب کی خواہش، نہ ذلت کا ڈر۔اللہ سے ایسی محبت کرنی ہے اب کہ ذلت کا بھی کوئی خوف نہیں۔اس راہ میں ذلت بھی آئے تو پیاری لگے اور مراتب نصیب ہوں تو وہ بھی بہت پیارے لگیں۔اب دیکھیں انسان خدا کا کامل عاجز بندہ خدا کو مخاطب کر کے یہ کہہ رہا ہے۔اب یہ ہے مضمون جو پلٹا دیا ہے آپ نے لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَ لَا شُكُورًا کہ اے اللہ ! ہم تجھ سے جزا بھی نہیں مانگتے نہ اظہار تشکر ہمیں تو تجھ سے ایسا عشق ہے ایسی محبت میں مبتلا ہو گئے ہیں تیرے احسانات پر نظر کرتے ہوئے کہ اب ہمارا بنیادی فرض ہے کہ تجھ سے ایسی محبت کریں۔ہماری فطرت میں داخل ہو چکی ہے یہ محبت اور یہ محبت کسی آزمائش کے نتیجہ میں ملنے والی نہیں ہے۔اسی قسم کی آزمائش حضرت ایوب کی بھی کی گئی تھی۔حضرت ایوب کے متعلق یہ بیان ہوا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے یہ کہا کہ اس کو تو نے اتنی نعمتیں عطا کی ہیں یہ شکر کیوں نہ کرے۔اگر واقعہ ایوب کو تجھ سے محبت ہے تو بلاؤں اور مصیبتوں میں گرفتار کر کے دیکھ۔اتنا دردناک واقعہ ہے حضرت ایوب کا اور اسی شان کے ساتھ قرآن کریم نے آپ کو بیان فرمایا ہے۔بے انتہا صبر کرنے والا بندہ تھا، ہر طرح کی مصیبتیں آپ پر نازل ہوئیں ، جسم میں کیڑے پڑ گئے ، شہر سے باہر گندگی کے ڈھیر پر آپ کو پھینک دیا گیا لیکن شکر کا حق ادا کرنے سے باز نہیں آئے یہاں تک کہ بعض روایتوں میں یہ بھی آتا ہے، کہانیاں بھی بیان کی جاتی ہیں کہ شیطان نے اللہ سے کہا اے خدا! اس کو اور نہ آزما کیونکہ جتنا تو آزماتا ہے یہ تیرے اور بھی قریب ہوتا جا رہا ہے۔میں تو خدا سے بندوں کو دور کرنے کے لئے آیا ہوں قریب کرنے تو نہیں