خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 888 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 888

خطبات طاہر جلد 17 888 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء مادے دریافت کر لئے جو بنیادی مادے ہوا کرتے ہیں، ہائیڈ روجن سے شروع کریں یا ہیلیئم سے شروع کریں تو ترقی کرتے کرتے مالیکیول زیادہ وزنی ہوتے چلے جائیں تو ایک اور مادہ بن جاتا ہے اور وزنی ہو جائیں تو ایک اور مادہ بن جاتا ہے لیکن مسلسل ارتقا ہے، مسلسل ان کے درمیان آپس میں ربط ہے ایک ایٹم کے زیادہ ہونے سے یا ایک الیکٹرون کے زیادہ ہونے سے، ایک پروٹون کے زیادہ ہونے سے، ایک معمولی سے معمولی چیز کے اضافہ سے جو بنیادی مادہ ہے وہ اگلے درجہ میں پہنچ جاتا ہے۔اس کی ہیئت ، اس کی شکل، اس کی صفات سب بدل جاتی ہیں۔تو یہ اللہ کی عجیب شان ہے کہ اس طرح خدا تعالیٰ نے مادے کو ترقی دی اور اس سے کچھ ایک دو سال پہلے تک یا چند سال پہلے تک انسان کو صرف ننانوے بنیادی مادے معلوم تھے ، پھر 100 ہوئے ، پھر 101 ، پھر 102 ، پھر 103، 109 تک پہنچ گئے اور خیال پیدا ہوا کہ اب اس کے بعد کوئی نیا مادہ نہیں مل سکتا۔اب 110، 111 112 بھی بن گئے ہیں اور 113 114 115 کے امکانات کھل گئے ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ یہ یہ طریق اختیار کریں تو یہ مادہ ایک اور روز نی مادہ میں تبدیل ہو سکتا ہے اور یہ وہ ساری چیزیں ہیں جن کی ضرورت ہے۔اس لئے اب ایک نئی سائنس کی برانچ ، ایک شاخ بنی ہے جس کو سائنس آف مٹیریل کہتے ہیں یعنی وہ میٹیریل جس کو ہم نے استعمال کرنا ہے نئی نئی چیزوں میں وہ مٹیریل بھی اگر اس قابل نہ ہو کہ وہ ان چیزوں میں استعمال ہو سکتا ہو تو وہ چیزیں بن ہی نہیں سکتیں۔کپڑا بودا ہوگا تو اس سے مضبوط قمیص کیسے سل سکتی ہے یا مضبوط شلوار کیسے سل سکتی ہے۔جتنا زیادہ سختی کا تقاضا ہو کسی کپڑے کے لئے اتنا ہی زیادہ کپڑے کو مضبوط ہونا چاہئے ، اتنا ہی زیادہ اس کے جوڑ مضبوطی سے سلنے چاہئیں۔تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کو آج کل سائنس آف مٹیریل میں استعمال کیا جا رہا ہے اور کبھی بھی دُنیا میں اتنی عظیم الشان ترقی نہ ہو سکتی تھی اگر مٹیریل موجود نہ ہوتا یا اس مٹیریل کے بنائے جانے کے امکانات نہ پیدا ہوئے ہوتے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان باتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو ايتاى ذى القربی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے یعنی اگر چہ ان الفاظ میں جن الفاظ میں میں نے بیان کیا ہے یہ سب کچھ مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں فرمایا مگر جو اشارہ ہے وہ اسی طرف ہے۔اگر اس پر غور کرو تو پتا چلے گا کہ جس نے تمہارے لئے بہت زیادہ ایسی چیزیں پیدا کر دیں جو کبھی