خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 874
خطبات طاہر جلد 17 874 خطبہ جمعہ 18 دسمبر 1998ء اس عظمت کا بیان ہے جو اس سے پہلے کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوئی۔بَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدی بھی اس میں ہے۔وَ الْفُرْقَانِ : اور ایسے دلائل ہیں جو غلبے کی طاقت رکھتے ہیں کھلی کھلی ، ظاہر و باہر ، شان وشوکت اپنے اندر رکھتے ہیں اور یہ ساری باتیں رمضان کے مہینہ میں گو یا اکٹھی کر دی گئی ہیں۔رمضان کے مہینہ میں اگر تم اس قرآن پر عمل کرو جس کی یہ شان ہے تو تمہارا رمضان کا مہینہ بھی اسی شان کے ساتھ چمکے گا۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُهُ : پس نتیجہ یہ نکالا گیا ، پس تم میں سے جو بھی اس مہینہ کو پائے تو اس مہینہ کے روزے رکھے۔يَصُبُهُ اس کو روزوں کی حالت میں گزارے۔وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ اُخَرَ : لیکن لوگ مستثنیٰ بھی ہوا کرتے ہیں۔ہر معاملہ میں استثنا بھی ہوتے ہیں۔فرمایا جو تم میں سے مریض ہو اؤ عَلى سَفَرِ یا سفر پر ہو۔فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أَخَرَ : تو پھر عدت پوری کرنی ہے دوسرے مہینوں میں، رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں وہ روزے پورے کر لئے جائیں۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ : یاد رکھو کہ اللہ نے تمہارے لئے آسانی پیدا فرمائی ہے۔تمہیں مشکل میں ڈالنا اس کو پسند نہیں ہے۔پس رمضان کے مہینہ میں اگر سفر پر ہو تو روزے نہ رکھو۔اپنے آپ کو اگر تم دقت میں مبتلا کرو گے، زورلگا کر خدا کو خوش کرنا چاہو گے تو وہ خدا جس نے تمہارے لئے آسانی پیدا فرمائی اس کی ناشکری ہوگی۔چنانچہ اس آیت کا آخری کلام شکر سے تعلق رکھتا ہے۔یہ سارا رمضان ہی اس بارے میں ہے کہ تم اس کا شکر ادا کر لیکن جو اپنے پیار اور محبت سے تمہارے لئے آسانی کرتا ہے اور تم اس آسانی کو قبول نہیں کرتے تو یہ ایک ناشکری کی قسم ہے۔يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ العسر اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے تنگی تو نہیں چاہتا۔وَ لِتَكْمِلُوا الْعِدَّةَ : اور اس عدت کو تم اپنی آسانی کے مطابق بعد میں پوری کر لینا۔وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدكُمْ : یہ رمضان کا مہینہ اتنی عظیم ہدایت لے کر آیا ہے کہ اس پر بے اختیار دل سے تکبیر بلند ہونی چاہئے ، سارا مہینہ اللہ تعالیٰ کی تکبیر میں صرف ہو اس بنا پر جو اس نے تمہیں ہدایت دی اور یہ وہ ہدایت ہے جو اس سے پہلے کبھی کسی قوم کو اس شان کے ساتھ ، اس تکمیل کے ساتھ نصیب نہیں ہوئی۔وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ : اور تاکہ تم شکر کرنے والے بنو۔آخری بات شکر ہی کی ہے اور شکر کرنے والا بندہ سب کچھ پالیتا ہے۔جو خدا کا شکر کرنے والا ہو اس کے ساتھ اور بھی بہت سی صفات ملحق ہو جاتی ہیں۔خدا کا شکر کرنے والا خدا کے بندوں کا