خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 850
خطبات طاہر جلد 17 850 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء اب یہ جو فرمایا کہ ” جماعت رحمت ہے اس کا مضمون یہی ہے دراصل کہ ایسا شکر کرو گے تو جماعت بنو گے اگر ایسا شکر نہیں کرو گے تو جماعت نہیں بن سکتے ، اکٹھے نہیں رہ سکو گے، بکھر جاؤ گے اور آگے پھر بیان فرمایا: اور تفرقہ عذاب ہے۔66 (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، حدیث نعمان بن بشیر ، حدیث نمبر : 18449) پس تم اگر جماعت نہیں بنو گے تو ایک خدا کے قہر اور عذاب کا مورد بن جاؤ گے اور یہ سارا مضمون شکر سے تعلق رکھتا ہے تو شکر سے تعلق میں جو بھی گہرے مضامین رسول اللہ صلی یا تم نے بیان فرمائے ہیں میں نے پسند کیا ہے کہ آپ کے سامنے ان کو میں کھول کھول کر بیان کروں تا کہ ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک شکر گزاروں کی جماعت بن جائے۔ایک روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخذ کی گئی ہے۔انہوں نے آنحضور صلی اہیم سے سنا کہ : ایک شخص رستہ میں جا رہا تھا۔( رسول اللہ لالہ ایم نے ایک مسافر کا واقعہ سنایا کہ ) ایک مسافر رستہ پر جارہا تھا کہ اس نے ایک کانٹے دار ٹہنی پڑی دیکھی تو اسے ہٹا دیا۔اللہ نے اس کی قدر دانی فرمائی اور اسے بخش دیا۔“ (جامع الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء فى اماطة الأذى عن الطريق ،حدیث نمبر : 1958) اب اس کے پاس اور کچھ بھی نہ ہو خرچ کرنے کے لئے تو تکلیفیں دور کر دے۔یہ مراد نہیں ہے کہ آپ کبھی ایک ٹہنی ہٹا دیں تو آپ ساری عمر کی نیکیاں کما گئے۔مضمون کی گہرائی میں اتر کے سمجھنا چاہئے۔رسول اللہ سلیم کا بیان ہے کسی عام انسان کا بیان نہیں ہے۔یہ اس میں مضمر ہے کہ وہ ایک غریب شخص ہوگا۔ایسا غریب شخص جو بنی نوع انسان کی خدمت کرنا چاہتا ہے لیکن کر نہیں سکتا۔ایسا شخص بعض دفعہ دکھ دور کر کے خدمت کر دیا کرتا ہے رستے سے کانٹا ہٹا دیتا ہے۔تو ایک خدمت کر دیتا ہے۔تو اس نے اس خیال سے جھاڑی ہٹائی کہ کسی ننگے پاؤں چلنے والے کے پاؤں کو نقصان نہ پہنچ جائے یہ بھی میرا ایک صدقہ ہے۔تو فرمایا اس کی قدر دانی اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔چونکہ اس کے مزاج میں یہ بات داخل تھی وہ بنی نوع انسان کی بھلائی چاہتا تھا کہ اسے بخش دیا۔تو آپ میں سے وہ جو مثلاً وقف ہیں بنی نوع انسان کی خدمت پر جیسا کہ اب ہومیو پیتھک کا جماعت میں ایک جوش پھیلا ہوا ہے،